خطبات محمود (جلد 17) — Page 334
خطبات محمود ۳۳۴ سال ۱۹۳۶ء جو نہی میں نے اس سوراخ کو دبایا تمام آگیں بجھ گئیں اور کوئی شعلہ باقی نہ رہا۔یہ نظارہ جو میں نے ۱۹۲۲ء میں یا ۱۹۲۳ ء میں دیکھا تھا در حقیقت ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی عملی زندگی کا ایک نظارہ تھا۔ہم بھی ایک بُرائی کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری نکل آتی ہے، دوسری بُرائی کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو تیسری نکل آتی ہے، تیسری بُرائی کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو چوتھی نکل آتی ہے، پھر اس جنگ میں ہماری ہمدردی بھی متحد نہیں اور نہ ہماری آواز یکساں ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے تو ساری جماعت شور مچانا شروع کر دیتی ہے کہ ہاں ہاں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں انہیں فوت ہونے دو کیونکہ ان کی موت میں ہی اسلام کی حیات ہے، جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید بالکل محفوظ ہے اور اس کی کوئی آیت منسوخ نہیں تو ساری جماعت چلاتی ہے کہ بالکل درست قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہم خود مٹ جائیں گے لیکن قرآن کریم کی کسی آیت کو مٹنے کی نہیں دیں گے، جب ہم کہتے ہیں انبیاء علیہم السلام بالکل معصوم ہوتے ہیں اور ان کی طرف کسی گناہ کو منسوب کرنا نا جائز ہے تو تمام جماعت کی آواز اس آواز کے ساتھ متحد ہوتی ہے اور وہ کہتی ہے ٹھیک ہے واقعہ میں انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں اور ہم کبھی کسی کے منہ سے یہ سننے کیلئے تیار نہیں کہ کسی نبی نے کوئی گناہ کیا۔غرض عقائد کی اصلاح کے متعلق جب ہم آواز اٹھاتے ہیں تو ساری جماعت کی طرف سے آواز آنے لگتی ہے کہ درست درست لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں لکھا ہے اپنی اولا دوں کو ورثہ دو اور لڑکیوں کو بھی شریعت کے مطابق اسی طرح حصہ دو جس طرح لڑکوں کو دیتے ہو تو بجائے سب کی طرف سے متحد طور پر یہ آواز اُٹھنے کے ہاں ہاں یہ بالکل درست ہے ورثہ کا حکم نہایت ضروری ہے اور لڑکیوں کو ورثہ میں نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آواز دھیمی پڑنی شروع ہو جاتی ہے اور تھوڑی دیر کے بعد ہمیں اپنوں میں سے ہی بعض کے منہ سے یہ آواز سنائی دینے لگتی ہے کہ لڑکیوں کو ورثہ دینا بڑا مشکل کام ہے اس سے تو ہماری ناکیں کٹ جائیں گی۔جب ہم کہتے ہیں کہ آؤ اور باجماعت نماز پڑھو سارے قرآن کریم میں بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ مؤمن وہ ہیں جو يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے نمازوں کو قائم کرتے ہیں یہ کہیں نہیں لکھا کہ