خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 321

خطبات محمود ۳۲۱ سال ۱۹۳۶ء سے ہوتا ہے یا پھر جلدی میں بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ انسان سے الفاظ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ کسی زمیندار کا بیل گم ہو گیا وہ تلاش کرتا رہا مگر اسے نہ ملا۔کسی نے اسے کہا کہ تم اس کی تلاش میں کہاں کہاں پھرو گے بہتر ہے کہ تم نماز کے وقت مسجد میں چلے جاؤ وہاں سب گاؤں کے لوگ جمع ہوں گے وہاں دریافت کر لینا کہ کسی نے میرا بیل دیکھا ہے؟ ممکن ہے ان میں سے کوئی تمہیں بیل کا پتہ دے دے۔اس نے سوچا یہ تد بیرا اچھی ہے مجھے مسجد میں چلنا چاہئے راستہ میں وہ سوچتا گیا کہ مجھے لوگوں سے مہذب طریق سے گفتگو کرنی چاہئے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اہل مجلس کو سلام کیا جائے اور پھر دریافت کیا جائے کہ کسی نے بیل تو نہیں دیکھا ؟ یہ تجویز ذہن میں آتے ہی اس نے فیصلہ کیا کہ جب میں مسجد میں جاؤں گا تو لوگوں سے کہوں گا اہل مجلس السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہیں آپ نے میرا بیل دیکھا ہے؟ یہ فقرہ سوچ کر وہ چلا۔مگر اس کے دماغ میں چونکہ بیل کا خیال غالب تھا اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کے الفاظ اس نے محض لوگوں کو خوش کر نے کیلئے لگا رکھے تھے اس لئے مسجد میں پہنچتے ہی جلدی سے اس کے منہ سے نکل گیا اہل مجلس بیل بیل کہیں آپ نے میرا السَّلَامُ عَلَيْكُمُ دیکھا ہے“۔وو یہ وہ چیز ہے جسے تقدیم و تاخیر کہتے ہیں مگر ان نادانوں سے کوئی پوچھے کہ کیا اللہ تعالیٰ پر بھی کبھی یہ حالت وارد ہو سکتی ہے کہ اہل مجلس بیل بیل کہیں آپ نے میرا اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ دیکھا ہے۔کہنا تھا رَافِعُكَ اور منہ سے نکل گیا مُتَوَفِّيكَ۔یہ مسلمانوں کی حالت تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا لیکن آج مسلمان مصنفین کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لی جائیں وہ وہی بات دہرا رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی کہ قرآن مجید کے الفاظ میں ترتیب ہے چاہے وہ ترتیب نہ دکھا سکیں ، چاہے ایسی آیتوں پر بحث کے وقت آج بھی انہیں مصیبت معلوم ہو مگر وہ اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن مجید کی آیات اور اس کے الفاظ میں ترتیب پائی جاتی ہے۔حالانکہ ان کے بڑے بڑے علماء یہ لکھا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں کوئی ترتیب نہیں اگر تر تیب ہے بھی تو نہایت موٹی اور معمولی۔غرض عقائد کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تبدیلیاں دنیا کے سامنے پیش کی تھیں اس زمانہ میں ان کے خلاف نہایت جوش اور غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا اور مسلمانوں