خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 322

خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۳۶ء نے یوں سمجھا کہ اسلام پر تبررکھ دیا گیا ہے لیکن جوں جوں جماعت احمدیہ کی طرف سے ان خیالات کو پھیلایا گیا، ان عقائد کی معقولیت، پختگی ، صحت اور درستی لوگوں کے قلوب پر اثر انداز ہوتی چلی گئی اور آہستہ آہستہ مسلمانوں کے دل ان سچائیوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے اور وہ جھوٹے اور غلط عقائد جوان میں پھیلے ہوئے تھے اور جن کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف جوش اور غیظ وغضب کا اظہار کیا گیا تھا آہستہ آہستہ محو ہوتے گئے یہاں تک کہ وہ تعلیمیں جن کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کفر کے فتوے دیئے گئے اُن کو خود علماء نے قبول کر لیا اور آج کی سارے علماء کہتے ہیں کہ اس میں مرزا صاحب کی کونسی خوبی تھی یہ باتیں تو پہلے سے قرآن کریم میں موجود تھیں۔مگر یہ نہیں سوچتے کہ حضرت مرزا صاحب نے کب کہا تھا کہ میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں انہوں نے بھی تو یہی کہا تھا کہ یہ باتیں قرآن مجید میں سے بیان کرتا ہوں مگر اُس وقت کے علماء نے انکار کیا اور آج کے علماء کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ان تمام باتوں کو مان رہے ہیں۔اس کے مقابلہ میں جب ہم عمل کو دیکھتے ہیں تو عملی زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم جو ہے وہ غیر تو غیر اپنی جماعت میں بھی ابھی تک پوری طرح قائم نہیں ہوئی۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ورثہ کے مسئلہ پر خاص طور پر زور دیا ہے اور تاکید کی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو حصہ ملنا چاہئے مگر جہاں وفات مسیح کا مسئلہ، قرآنی ترتیب کا مسئلہ، عصمت انبیاء کا مسئلہ اور بیسیوں مسائل ایسے ہیں جنہیں دشمنوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے وہاں یہ مسائل ایسے ہیں کہ اپنوں نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔زمینداروں میں یہ مسئلہ زیادہ تر لا پروائی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور زمیندار ہی زیادہ تر اس مسئلہ کو عملی جامہ پہنانے میں روک بنتے ہیں۔وہ لڑکوں کو حصہ دے دیں گے مگر لڑکیوں کو حصہ دینے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔اسی طرح غرباء اور امراء میں پیار، اتحاد، محبت، یکجہتی اور یکسوئی کی جو تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے کتنے لوگوں نے اس پر عمل کیا ہے؟ اب تحریک جدید کے ماتحت کھانے اور کپڑوں کے متعلق بعض احتیاطیں امراء نے اختیار کی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسی روح کے ماتحت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا کرنا چاہتے تھے یا معین صورت میں ؟ اگر انسان ایک روح کے ماتحت کام کرے تو وہ اس حکم کے تمام گوشوں کو مدنظر رکھنا اور باریک سے بار یک امور بھی بجالانا