خطبات محمود (جلد 17) — Page 320
خطبات محمود ۳۲۰ سال ۱۹۳۶ء غیر معقول اور احمقانہ دعوی تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ امر شائع فرمایا کہ قرآن مجید کی تمام آیات اور ان آیات کے تمام الفاظ میں ترتیب ہے اور اس کی ترتیب کو نظر انداز کی کرنے سے قرآن مجید کی خوبی اور اس کا حسن مارا جاتا ہے تو مسلمانوں نے حیرت اور تعجب سے اس دعوے کو دیکھا اور انہوں نے خیال کیا کہ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے عقلِ سلیم قبول نہیں کر سکتی۔ان کی تفسیر میں تقدیم و تاخیر کی بحثوں سے بھری پڑی تھیں جہاں کہیں ان کو قرآن مجید کے معنے سمجھ نہ آتے وہ کہتے اس آیت کے الفاظ غلطی سے آگے پیچھے ہو گئے ہیں۔غلطی کا لفظ میں نے اپنی طرف سے بڑھایا ہے کیونکہ آگے پیچھے الفاظ غلطی سے ہی ہوا کرتے ہیں ورنہ اگر حکمت کے ماتحت الفاظ کی ترتیب ہو تو ان کے متعلق آگے پیچھے ہو جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس وہ سمجھتے کہ گویا خدا بھی نَعُوذُ باللہ بھی جلدی میں غلطی کر جاتا ہے۔جو الفاظ بعد میں رکھنے ہوتے ہیں وہ پہلے رکھ دیتا تھی ہے اور جو الفاظ پہلے رکھنے ہوتے ہیں وہ بعد میں رکھ دیتا ہے۔چنانچہ بڑا دعویٰ ان کا یہ تھا کہ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ ا میں نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ سے غلطی ہوئی اسے رَافِعُكَ اِلَی پہلے رکھنا چاہئے تھا اور مُتَوَفِّیک بعد میں۔جب کبھی مسلمانوں کے سامنے احمدی یہ آیت پیش کرتے اور کہتے کہ دیکھو یعِیسَی اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ والی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وفات کا پہلے ذکر ہے اور رفع کا بعد میں جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پہلے فوت ہوئے ہیں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ہیں مگر تم کہتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ہیں اگر فوت نہیں ہوئے ؟ تو اس پر تمام مولوی جس طرح ایک بیوقوف اور احمق شخص کی حماقت پر مسکرا کر جواب دیا جاتا ہے نہایت عالمانہ شکل بنا کر اور احمدیوں کی مزعومہ جہالت پر ہنسی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہوگئی ہے یعنی جو پہلے لفظ رکھنا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے بعد میں رکھ دیا اور جسے بعد میں رکھنا تھا اسے پہلے رکھ لی دیا۔مگر کوئی نہ بتاتا کہ اس نے کیوں پہلے رکھنے والا لفظ بعد میں اور بعد کا لفظ پہلے رکھ دیا آخر وجہ کی کیا تھی اور اللہ تعالیٰ کو کونسی ایسی مشکل پیش آئی تھی جس کی بناء پر الفاظ کو آگے پیچھے کرنا پڑا۔اگر کوئی مشکل پیش آئی تھی تو اسے بیان کرنا چاہئے اور اگر حکمت تھی تو اسے بیان کرنا چاہئے تھا مگر یونہی الفاظ کو آگے پیچھے رکھ دینا یا تو مطالب سے جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے یا الفاظ سے جہالت کی وجہ