خطبات محمود (جلد 17) — Page 319
خطبات محمود ۳۱۹ سال ۱۹۳۶ء علیہ السلام کی چوریاں بیان کرتے ، جب وہ اپنی مجالس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قاتل قرار دی دیتے اور وہ بجائے اس کے کہ کوئی شرم محسوس کرتے اس میں لذت اور خوشی پاتے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سوال کو اُٹھایا اور اس پر بحث کی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء بالکل معصوم ہوتے ہیں۔آپ کے اس دعوی کو دنیا نے عجیب قسم کا دعویٰ سمجھا اور اسے ایک غیر معمولی بات خیال کیا مگر آج کہاں ہیں مسلمانوں میں وہ لوگ جو کھڑے ہو کر کہہ سکیں کہ انبیاء نے فلاں فلاں گناہ کئے۔وہی مسلمان جو یہ باتیں سن کر سر دھنا کرتے تھے ، وہی مسلمان جو یہ باتیں سن کر سُبحَانَ اللهِ اور واہ واہ کے نعرے لگایا کرتے تھے آج اگر کسی کے منہ سے اس قسم کی باتیں سن لیں تو وہ اُس کی کھوپڑی پر جوتیاں مارنے کیلئے تیار ہو جائیں۔اسلامی تعلیم کے پُر حکمت ہونے کا دعوی بھی ایسا ہی تھا جو دنیا کی نظروں میں عجیب تھا۔عام طور پر مسلمان یہ خیال کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جب ایک حکم دیا ہے تو اسے مان لینا چاہئے اس پر دلیل کیسی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس دعوی کو پیش کیا کہ قرآن مجید کے تمام احکام سبب اور علت کا ایک سلسلہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور اس کا ہر حکم کسی نہ کسی حکمت کا حامل ہے تو گو اس مسئلہ پر مسلمانوں کی طرف سے مخالفت نہیں ہوئی مگر ان کی نظروں میں یہ دعوی کی عجیب تھا۔اُس وقت مسلمان اس کو ایک ذکی الحس دماغ کی تیزی طبع خیال کرتے تھے مگر آج کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہی کتاب جس میں اس مسئلہ کا بالتفصیل ذکر ہے سرورق پھاڑ کر لوگ اپنے نام سے شائع کر رہے ہیں۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے لاہور میں ہی ایک شخص نے ی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی اپنے نام سے شائع کی ہوئی ہے جی صرف اس نے یہ تبدیلی کی ہوئی ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے راقم بھی اس میں تجربہ کار ہے اس قسم کے تمام فقرات اس کی نے کاٹ دیئے ہیں کیونکہ وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا مگر باقی تمام کتاب اُس نے اپنے نام سے شائع کی ہوئی ہے۔اب کجا وہ حالت کہ ان چیزوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا تھا اور کجا یہ عظمت کہ چوری کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کو اپنے نام پر شائع کر دیا جاتا ہے۔قرآن مجید کی آیات میں ترتیب ہونے کا دعوی بھی مسلمانوں کے نزدیک ایک بالکل