خطبات محمود (جلد 17) — Page 318
خطبات محمود ۳۱۸ سال ۱۹۳۶ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائے دعوی میں جب قرآن مجید کے کامل ہونے کا دعویٰ پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ قرآن مجید کی کوئی آیت منسوخ نہیں تو علماء کہلانے والے تنے جوش میں آگئے کہ ان کے مونہوں سے جھاگ اور ان کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا تھا کہ قرآن مجید کی بعض آیات کا منسوخ ہونا ہی ان کے نزدیک اسلام کے زندہ ہونے کے مترادف ہے اور اس مسئلہ کو بھی الحاداور زندقہ کا موجب قرار دیا گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل ایک اپنا واقعہ سنایا کرتے تھے۔فرمایا کرتے میں ایک دفعہ لا ہور گیا غالبًا مسجد چینیاں میں نماز پڑھنے کیلئے چلا گیا، میں بھی وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی آگئے اور ان سے گفتگو شروع ہوئی۔دورانِ گفتگو میں نے کوئی آیت پڑھی تو وہ کہنے لگے یہ منسوخ ہے۔حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں میں نے انہیں کہا میں قرآن مجید میں ناسخ و منسوخ کا قائل نہیں ہوں۔اس پر وہ بڑے جوش میں آگئے اور کہنے لگے یہ ملحد لوگوں کا عقیدہ ہے، ابومسلم خراسانی بھی ایک ملحد تھا اور اُس کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ قرآن مجید کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا چلو ہم ایک سے دو بن گئے اور پرانے آدمیوں کی بھی اس مسئلہ کی تائید میں ایک روایت مل گئی۔تو اُس زمانہ میں یہ ایک عجیب بات سمجھی جاتی تھی اور جو اس کا قائل ہوتا اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ وہ اتحاد کا مرتکب ہے اور خیال کیا جاتا کہ جب تک قرآن مجید میں بعض آیات کو منسوخ نہ سمجھا جائے اس وقت تک اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا مگر آج جاؤ اور ان علماء یا عوام سے جو اسلام سے دلچسپی رکھتے ہیں پوچھ لو وہ قرآن مجید کی تمام آیتوں سے استدلال کریں گے اور منسوخ کا نام بھی نہیں لیں گے۔نئی لکھی ہوئی تفسیروں کو دیکھ لو ان میں سے ناسخ منسوخ کے الفاظ کی پالکل اُڑ گئے ہیں گویا دنیا کا نقطہ نگاہ ہی اس بارے میں بالکل بدل گیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ انبیاء بھی گناہگار ہو سکتے ہیں۔چنانچہ انبیاء کے عیوب گنانے میں مولوی لوگ فخر محسوس کرتے اور مزے لے لے کر اپنی مجلسوں میں ان عیوب کو بیان کرتے۔ان کی وہ مجلسیں دیکھنے کے قابل ہوتی تھیں جب وہ چٹخارے مار مار کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جھوٹ گنواتے اور حضرت یوسف