خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 317

خطبات محمود ۳۱۷ سال ۱۹۳۶ء علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو واقعہ میں وہ فوت ہو چکے ہوں گے بلکہ وہ سمجھتے کہ یہ محض مولویوں کو شرمندہ کرنے کیلئے کہتے ہیں ورنہ حیات مسیح کا مسئلہ تو ایک ثابت ھدہ حقیقت ہے۔یہ حالت تھی ان لوگوں کی جن کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعویٰ پیش کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔سارے ہندوستان میں ایک آگ لگ گئی ، علما ء اپنے بستے کھول کر بیٹھ گئے ، رڈ لکھتے لکھتے ان کی قلمیں گھس گئیں اور تقریریں کرتے کرتے ان کی زبان پر آبلے پر گئے ، انہوں نے حیات مسیح کو ثابت کرنے کیلئے اپنا سارا زور لگا دیا مگر نتیجہ کیا ہوا ؟ ہر دن جو نیا چڑھ اس میں ان کے چند مانے والے اگر احمدی نہیں ہوئے تو حیات مسیح کا انکار کرنے لگ گئے اور آج تمام ہندوستان میں پھر جاؤ دس تعلیم یافتہ آدمیوں میں سے ایک بھی حیات مسیح کا قائل نظر نہیں آئے گا۔وہ ابھی تک احمدی نہیں ہوئے مگر وفات مسیح کے قائل ہیں بلکہ ہماری جماعت کا ایک شدید دشمن حیات مسیح اور آمد مسیح کے عقیدہ کو ایک مجوسی عقیدہ خیال کرتا ہے۔وہ ہماری جماعت کی مخالفت کرتا ہے مگر حیات مسیح کا وہ بھی قائل نہیں اور یہ صرف اس سے ہی مخصوص نہیں انگریزی پڑھے ہوئے اکثر ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی حیات تسلیم نہیں کرتے بلکہ مولویوں کے پاس چلے جاؤ ان میں سے بھی اکثر ایسے دکھائی دیں گے جو حیات مسیح کے قائل نہیں ہوں گے۔چنانچہ عام طور پر مسلمانوں سے اس مسئلہ پر جب گفتگو کی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس مسئلہ میں کیا رکھا ہے چلو اسے چھوڑو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل سب کے ماننے لگ گئے ہیں۔اب کجاوہ حالت تھی اور کجا یہ حالت ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ مسئلہ پیش کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء ہر ملک میں بھیجے ہیں تو ساری دنیا میں ایک آگ لگ گئی اور لوگوں نے کہا دیکھو! یہ کافروں کو نبی قرار دیتا ہے۔اس مسئلہ پر اس قدر استہزاء کیا گیا، اس قدر تمسخر کیا گیا کہ کان اس کے سننے کی برداشت نہیں کرتے تھے لیکن آج شدید ترین مخالف اخبار بھی جو رات دن ہمارے خلاف لکھتے رہتے ہیں اس مسئلہ کی صحت کو تسلیم کر چکے ہیں اور ان میں اس بات پر مضمون شائع کی ہوتے ہیں کہ اسلام پہلے انبیاء کی صداقت کا بھی قائل ہے۔گویا یا تو اس مسئلہ کو نہایت ہی غلط اور بے بنیاد قرار دیا جا تا تھا یا اب احمدیت کی تعلیم کی اشاعت کی وجہ سے سارے لوگوں کیلئے یہ ایک تسلیم شدہ مسئلہ بن گیا ہے اور تمام سمجھدار انسان احمدیت کی تعلیم کو صحیح تسلیم کرنے لگ گئے ہیں۔