خطبات محمود (جلد 17) — Page 196
خطبات محمود ۱۹۶ سال ۱۹۳۶ء کوئی امن سے رہنے بھی تو دے۔لیکن باوجود ہماری طرف سے امن پر قائم رہنے کے اگر حکومت کی رویہ نہ بدلے تو میں اسے کہوں گا کہ فتنہ کو کم سے کم حلقہ میں محدود کر نے کیلئے اسے چاہئے کہ جماعت کی پر یہ بات کھول دیے کہ اقتصادی طور پر اسے حکومت سے کوئی فائدہ اُٹھانے کا حق حاصل نہ ہوگا۔اس سے بھی بہت سی تلخی دور ہو جائے گی کیونکہ امید کے بعد نا امیدی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن جب کوئی سمجھ لے کہ میرا کوئی حق نہیں تو اس کا شکوہ بھی کم ہو جاتا ہے۔اسے چاہئے کہ یہ اعلان کر دے کہ آئندہ سرکاری ملازمتوں میں احمدیوں کو نہیں لیا جائے گا۔ہماری جماعت کے لوگوں کو ایسے اعلان کی سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔لاکھوں تدبیریں ہیں جو اختیار کی جاسکتی ہیں۔اگر ملازمتوں کے دروازے گورنمنٹ بند کرے تو ہمارے نوجوان تجارت وغیرہ کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہوں گے۔اس وقت دو نہایت زبر دست حکومتیں ہندوستان میں اپنے تعلقات وسیع کرنے کیلئے تھی کوششیں کر رہی ہیں اور وہ غیر معمولی مدد دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔مثلاً وہ اس بات پر تیار ہیں کہ تجارتی مال دیں مگر اس کے بدلہ میں روپیہ نہ لیں بلکہ ہندوستانی مال مثلاً گیہوں لے لیں یا کپاس لے لیں اس طرح تجارت میں بہت کچھ سہولت پیدا ہو گئی ہے۔بے شک ابتدا میں نا تجربہ کاری کی ای وجہ سے تکلیف ہوگی مگر خطرات میں پڑے بغیر انسانی اخلاق میں مضبوطی نہیں پیدا ہوتی۔عقلمند ان کی تکلیفوں کو بھی خدا تعالیٰ کی رحمت سمجھا کرتے ہیں۔اگر اس تجربہ میں ہمارے نوجوان کامیابی ہو گئے تو وہ اپنی روزی کمانے کے ساتھ ساتھ ان افسروں کو بھی سزا دے دیں گے جو ہمیں ناحق دُکھ دیتے ہیں کیونکہ اسی طرح لاکھوں کی تجارت انگلستان کے ہاتھ سے نکل کر دوسری قوموں کے ہاتھ کی میں چلی جائے گی بلکہ میں کہتا ہوں کہ دوسری قوموں سے تجارتی تعلق پیدا کرنے سے بھی زیادہ مفید یہ ہے کہ خود صنعت و حرفت کی طرف ہماری جماعت توجہ کرے تا کہ ہر قسم کے سیاسی اثر سے محفوظ ہو جائے۔گزشتہ جدو جہد کے زمانہ میں یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ زمیندار افسروں سے زیادہ مرعوب ہوتا ہے بہ نسبت تاجروں کے۔پس تجارت اور صنعت و حرفت کی طرف ہماری جماعت کو کی زیادہ توجہ چاہئے تاکہ کسی کی محتاجی باقی ہی نہ رہے۔خود صنعت و حرفت کی طرف توجہ کریں اور تجارت غیر ملکوں سے بڑھانے کی کوشش کریں جو قا نو نا جائز فعل ہے۔کوئی قانون ہمیں اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ ہم ضرور انگریزی مال لیں۔بے شک ہم بائیکاٹ کے مخالف ہیں مگر بغیر