خطبات محمود (جلد 17) — Page 197
خطبات محمود ۱۹۷ سال ۱۹۳۶ء بائیکاٹ کئے کے کوئی دوسرا طریق اختیار کرنا تو منع نہیں۔اگر ہم ایسا کرنے لگیں تو کانگرس بھی کی ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گی۔کانگرس میں اس وقت کوئی تنظیم نہیں اگر ہم ایک تنظیم کے ساتھ یہ کام کرنے لگیں تو ہزاروں ہندو اور سکھ ہم سے مل جائیں گے اور قانون شکنی کا خیال لوگ بھلا دیں گے اور اس طرح بالواسطہ طور پر بھی حکومت کی ایک خدمت کر دیں گے اور ساتھ ہی قانون کے اندر رہتے ہوئے خود نفع کماتے ہوئے ہم اپنے حقوق بھی حاصل کر سکیں گے اور یہ صرف ایک ہی طریق نہیں ایسے بیسیوں طریق ہیں جن سے جماعتیں اپنے آپ کو ملا زمتوں سے آزاد کر سکتی ہیں۔جب ملازمتوں کے راستے بند ہوں تو خود بخود ہماری جماعت کے دماغ دوسری راہوں کی دریافت اور ان پر چلنے کی طرف متوجہ ہوں گے۔مگر ہم صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور خوامخواہ حکومت کیلئے کی مشکلات پیدا نہیں کریں گے اور کوشش کریں گے کہ چند افسروں کی وجہ سے حکومت کیلئے مشکلات کی پیدا کرنے کا موجب نہ بنیں مگر جو سلوک ہم سے کیا جا رہا ہے نہایت تکلیف دہ ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ آخر کب تک ہم ان باتوں کو برداشت کرتے چلے جائیں گے ، کب تک ہم اپنے امن کو بربادی ہوتا دیکھیں گے یقیناً ایک وقت آئے گا جب مجبور ہو کر ہمیں ان ذرائع کو اختیار کرنا پڑے گا جو ہمیں ان تکالیف سے بچائیں۔اس لئے میں ایک دفعہ پھر حکومت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اب بھی اپنے ہی رویہ پر غور کرے۔ہم اس بات پر تیار ہیں کہ اس سے صلح کر لیں مگر اس کیلئے بھی ضروری ہے کہ و بڑی بڑی باتوں میں ہماری شکایتوں کو دور کرے۔آج حکومت اپنے آپ کو ہماری مدد سے مستغنی سمجھتی ہے مگر میں اُس نگاہ سے دیکھ رہا ہوں جس نگاہ سے وہ نہیں دیکھ رہی کہ حکومت کو پھر مشکلات پیش آنے والی ہیں اور آسمان سے خدا تعالی کی یہ ثابت کر دے گا کہ کل کو یہی حکومت پھر ہماری مدد کی محتاج ہو گی۔پھر گل کے افسر ہمیں کہیں گے کہ آؤ ہماری مدد کرو اور پچھلے افسروں کے رویہ کو نظر انداز کر دو مگر میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر آج انہوں نے ہماری شکایات کو دور کرنے کی کوشش نہ کی تو کل ان کا ہمیں اپنی مدد کیلئے بلا نا بیکار ثابت ہوگا اور ہم قانون شکنی سے بچتے ہوئے اپنی جماعت کی معیشت کیلئے دوسرے ذرائع إِنْشَاءَ اللهُ نکالیں گے جن کو اختیار کر کے ہم حکومت کی مہربانیوں سے آزاد ہو جائیں گے۔مگر ہم چھپ کر کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ کھلے بندوں کریں گے ، عَلَی الْإِعْلان کریں گے اور حکومت کے قانون کے