خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 195

خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۶ء ساتویں بات یہ ہے کہ احرار برابر گالیوں میں بڑھتے چلے جارہے ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کے روکنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔میں اس موقع پر یہ ذکر کر دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ چوہدری اسد اللہ خان صاحب نے پنجاب کونسل میں بعض تقریریں کیں اس پر ایک گورنمنٹ افسر نے چوہدری صاحب کو مخاطب کر کے کہا گورنمنٹ تو آپ کی دوست ہے مگر آپ اور پیرا کبر علی صاحب اس کے خلاف تقریریں کر کے خواہ مخواہ اسے دشمن بنا رہے ہیں۔چوہدری صاحب نے تو جو جواب دیا ہوگا دیا ہوگا میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ دوستی کی کوئی علامت بھی تو ہوا کرتی ہی ہے۔دوست تو ہم ہیں کہ باوجود اس قدر اشتعال انگیز حالات کے ہم نے حکومت کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی۔میں نے ایک سکیم بھی سوچی تھی اور میں امید کرتا ہوں کہ اس سکیم کے ماتحت حکومت کی کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے رویہ پر نظر ثانی کرے مگر جب حکومت نے کسی قدر ہماری تسلی کی کی کوشش کی تو میں نے دیانتداری سے اس سکیم کو نظر انداز کر دیا۔شہید گنج کے موقع پر خاص طور پر اس کی میں حصہ لے سکتے تھے مگر ایک طرف یہ دیکھ کر کہ ہمارے حصہ لینے سے مسلمان شور مچائیں گے اور اس طرح ان میں کمزوری پیدا ہوگی اور دوسری طرف گورنمنٹ کو خوامخواہ مصیبت میں پھنسانے سے احتراز کرتے ہوئے ہم نے اس میں حصہ نہ لیا مگر گورنمنٹ نے پھر بھی ہم پر الزام لگا دیا۔پس اگر تی دوستی سے پچھلے چند دنوں کی خاموشی مراد ہے تو شاید یہ اعتراض درست ہو لیکن اگر دوستی کے معنی صلح اور محبت کے ہیں تو پھر یہ صحیح نہیں کہ گورنمنٹ ہماری دوست ہے۔ہم اب بھی تیار ہیں کہ بہت سی باتوں کو معاف کر دیں، ہم اب بھی تیار ہیں کہ بہت سی باتوں کو بھول جائیں مگر کچھ باتیں ایسی نی ضرور ہیں جن میں گورنمنٹ کو ہماری مرضی کا پورا کرنا ضروری ہے۔جیسے گالیوں کا سلسلہ ہے کہ سے بند کرنا گورنمنٹ کا فرض ہے یا جماعت احمدیہ سے ناواجب اور ناروا سلوک کرنے والے افسروں کو بدلنا ہے یہ بھی گورنمنٹ کا فرض ہے اور اس کا کام ہے کہ وہ انہیں تبدیل کرے مگر اس رنگ میں کہ ہماری براءت ثابت ہو اور آئندہ کسی کو ویسی حرکات کی جرات نہ ہو کیونکہ دوستی کی کوئی کی علامت آخر گورنمنٹ بھی تو ظاہر کرے۔ނ ہم تو ہمیشہ سے امن پسند ہیں اور چاہتے ہیں کہ تفرقہ و فساد نہ ہو۔ہمیں نہ مسلمانوں۔ننی ہے نہ ہندوؤں سکھوں اور عیسائیوں سے، ہم ہر ایک کے دوست بن کر رہنا چاہتے ہیں مگر