خطبات محمود (جلد 17) — Page 154
خطبات محمود ۱۵۴ سال ۱۹۳۶ء مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روز استعمال کئے جاتے ہیں اور حکومت بار بار توجہ دلائے جانے کی کے باوجود خاموش ہے۔ہمارا صرف ایک ہی قصور ہے اور وہ یہ کہ ہم تھوڑے ہیں اور حکومت کے وفادار ہیں اس لئے ہماری طرف سے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔اگر میں کم سے کم سو ایسے حوالے دکھا سکوں جن میں سے ایک بھی اگر کسی قوم کے پیشوا کے متعلق استعمال کیا جاتا تو ملک میں آگ لگ جاتی تو کوئی قوم ہمارے صبر اور امن پسندی پر حرف نہیں لاسکتی مگر حکومت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم بھی وہی الفاظ دوسروں کے متعلق دُہرائیں اور جب ہم ایسا کریں تو اس کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ ہم پر اعتراض کرے۔اور اگر وہ ہم پر اعتراض کرے گی تو آنے والے مورخ ہمیں حق بجانب قرار دیں گے حکومت کو نہیں۔اگر یہ باتیں جائز ہیں اور جیسا کہ حکومت نے اپنے فعل سے بتا دیا ہے جائز ہیں تو ایسا ہی رویہ اختیار کرنے پر اُسے کوئی حق نہیں ہوگا کہ ہم سے باز پرس کرے۔ہم حکومت سے کسی فائدہ کی توقع نہیں رکھتے بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ مرا ز خیر تو امید نیست بد مرساں یعنی مجھے تجھ سے کسی بھلائی کی امید نہیں مگر کم سے کم یہ کر کہ نقصان تو نہ پہنچا۔ہمیں ایک لمبے تجربہ کی بناء پر یہ امید ہی نہیں رہی کہ حکومت پنجاب کا وہ عملہ جس کے سپرد ان امور کا تصفیہ ہے ہمارے احساسات کا احترام کرے گی مگر اب احمدی نوجوان اس جائز بدلہ کے لینے کیلئے بیتاب ہو رہے ہیں اور نیشنل لیگ میں سنتا ہوں کہ اپنا پروگرام مکمل کر چکی ہے اور اگر وہ ایسا کرے تو چونکہ حکومت اپنے فعل سے بانیانِ مذاہب اور ہادیانِ طریقت کے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال جائز قرار دے چکی ہے کوئی وجہ نہیں کہ میں اپنے نو جوانوں کو اس فعل سے روکوں۔یہ وہ اخلاق ہیں جن کی صحت پر تمام قوموں کے نمائندوں کی مہر ثبت ہو چکی ہے اور حکومت نے بھی اسے اپنے عمل سے حدود قانون کے اندر قرار دے دیا ہے۔پس اب میرا فرض نہیں کہ خود دخل دوں میں پہلے ان باتوں سے روکتا تھا مگر افسوس کہ میرے اخلاق سے ناجائز فائدہ اٹھایا گیا مگر یہ سب باتیں دنیوی تدابیر ہیں اگر جماعت ایسا کرے تو وہ صرف الزامی جواب دے گی مگر اس فعل سے ان باتوں کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔بلا شبہ ہم میں سے کمزور دلوں کی اس سے تسلی بھی ہو جائے گی مگر