خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 153

خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۶ء جاتی۔حتی کہ ہمیں تو یہاں تک رپورٹ پہنچی ہے کہ بعض مخالفوں کے حلقوں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمیں افسروں نے یقین دلایا ہے کہ احمدیوں کے خلاف جو چاہو لکھو کوئی گرفت نہ ہوگی۔ہمیں یقین کی ہے کہ یہ بات ساری حکومت کی طرف سے نہیں ایک یا دو افسروں پر یہ الزام ہے گو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ ان کے متعلق بھی صحیح ہے یا غلط ، مگر واقعات طبیعت کو اس کی صحت کی طرف مائل ضرور کرتے ہیں کیونکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق متواتر ایسی باتیں کہی جاتی ہیں جو اگر کسی اور کے متعلق ایک دفعہ بھی کہی جاتیں تو حکومت کبھی خاموش نہ رہتی تو اس کی کوئی تھی وجہ ہونی چاہئے۔کم سے کم سو مرتبہ اخباروں میں آپ کو کذاب یا د جبال یا شرابی کہا گیا ہے۔اگر کم سے کم سو دفعہ میں ایسی گالیاں نہ دکھا سکوں تو حکومت بے شک میری بات نہ مانے لیکن اگر سو سے زیادہ دفعہ دشمنوں کے اخباروں میں یہ باتیں چھپی ہوں تو ذمہ دار افسروں کو یا د رکھنا چاہئے کہ اس ساری غفلت کا جواب انہیں خدا تعالیٰ کے سامنے دینا ہوگا اور دنیا کی نگاہوں میں بھی وہ قابل ملامت ٹھہریں گے۔ہم ایک طرف انگریزی قانون کے الفاظ چھاپیں گے اور دوسری طرف کی وہ گالیاں جو احراری اخباروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جاتی ہیں اور برطانوی پبلک سے اپیل کریں گے کہ اس طرح اس کے اچھے نام کو اس کے نوکر بد نام کر رہے ہیں اور انصاف کا خون کیا جارہا ہے۔ہم ایک طرف دنیا کو ان مظالم سے مطلع کریں گے تو دوسری طرف اپنے رب سے اپیل کریں گے یہاں تک کہ اس ظلم کے ذمہ دار حکام چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آجائیں گے۔ایک طرف خدا کی لعنت ان پر برسے گی اور دوسری طرف شریف الطبع انسان خواہ کسی قوم اور ان مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ان کے افعال پر اظہار نفرت و ملامت کریں گے۔میں ہرگز نہیں مان سکتا کہ اگر ہمارے اخباروں میں یہی الفاظ یسوع کے متعلق استعمال کئے جائیں ، اگر انہیں دجال لکھا جائے یا یہ لکھا جائے کہ ناصرہ کا رہنے والا ایک شرابی تو گورنمنٹ کی رگِ حمیت جوش میں نہ آئے۔اگر یہی الفاظ ان اقوام کے بزرگوں کے متعلق استعمال کئے جائیں جو احرار کی پیٹھ ٹھونک رہی ہیں ، اگر یہ سکھ گوروؤں کے متعلق لکھے جائیں ، ہندو رشیوں ،سینیوں کے متعلق لکھے جائیں اور ان لوگوں کے علماء کے متعلق بولے جائیں جو اپنے آپ کو اکثریت میں بتاتے ہیں تو ہندوستان میں آگ نہ لگ جائے اور حکومت کا قانون حرکت میں نہ آئے لیکن یہ الفاظ حضرت