خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 155

خطبات محمود ۱۵۵ سال ۱۹۳۶ء حقیقی روحانیت سے مس رکھنے والے ان باتوں سے تسلی نہیں پاسکتے۔جب تک وہ زبانیں کھلی ہیں جن پر یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں، جب تک وہ ہاتھ حرکت کرتے ہیں جو ایسی باتیں لکھتے ہیں ، جب می تک وہ دماغ موجود ہیں جن میں یہ خیالات دوڑتے ہیں ، جب تک وہ دل باقی ہیں جن میں ایسے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور جب تک دوبارہ ان باتوں کے کہے یا لکھے جانے کا امکان ہے اُس کی وقت تک کوئی احمدی چین کا سانس نہیں لے سکتا مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کا ہٹانا ہمارے اختیار میں نہیں یہ خدا کے اختیار میں ہی ہے اور وہ دونوں طرح ان باتوں کو دور کر سکتا ہے۔وہی دل جو آج نفرت سے بھرے ہوئے ہیں ان میں محبت کے جذبات پیدا کر کے بھی ہٹا سکتا ہے اور ایسے لوگوں کو تباہ اور اُن کے گھروں کو ویران کر کے بھی ہٹا سکتا ہے۔حکومت ہمارے ہاتھوں کو پکڑی سکتی ہے مگر وہ خدا کے ہاتھوں کو کس طرح پکڑ سکتی ہے جن ہاتھوں میں وہ خود بھی ایک قیدی کی طرح ہے۔ہماری فوجیں زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہیں حکومت تو ہیں بنواتی ہے جن کے گولے ۱۵ میل تک مار کر سکتے ہیں مگر ہم وہ تو ہیں تیار کریں گے جو عرش سے گولہ پھینکتی اور فرش پر رہنے والوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہیں۔گورنمنٹ کی گرفت صرف اُن لوگوں تک ہے جو اُس کی حکومت کے ماتحت ہیں مگر ہم وہ وارنٹ جاری کرائیں گے جن سے دنیا کے بادشاہ بھی گرفتار کئے جا سکتے ہیں۔ہم نے کی ایک لمبے عرصہ تک ان باتوں کو سنا اور صبر کیا، دیکھا اور خاموش رہے ، ہم نے التجائیں کیں مگر انہیں را دیا گیا ، ہم نے عرضیں کیں مگر ان پر کان نہیں دھرے گئے لیکن جب تک وہ تحریر میں موجود ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شرابی کہا گیا اور دقبال لکھا گیا اور جب تک حکومت ان کا بدلہ نہیں لیتی ہم کبھی چپ نہ ہوں گے اور جو ہم نہ کر سکیں گے وہ خدا تعالیٰ کرے گا جہاں ہمارے ہاتھ رو کے جائیں گے وہاں فرشتے کام کریں گے۔زمین پر امن قائم نہیں ہو گا جب تک ہمارے دلوں میں امن قائم نہیں ہوتا، آسمان تیر اندازی بند نہیں کرے گا جب تک ہمارے قلوب پر ان تیروں کا چلا یا جا ناختم نہ ہوگا۔پس پھر آؤ کہ سات روزے رکھیں جو اگلے ہفتہ سے شروع کر کے ہر پیر کے دن رکھے جائیں اور چونکہ نفلی روزے سفر میں بھی رکھے جاسکتے ہیں اس لئے جو سفر میں ہوں وہ بھی رکھیں اور اگر کوئی مسافر یا بیمار ہونے کی وجہ سے پیر کے دن روزہ نہ رکھ سکے تو وہ جمعرات کے دن رکھے اور