خطبات محمود (جلد 17) — Page 152
خطبات محمود ۱۵۲ سال ۱۹۳۶ء سوار ہوکر اُسے مارنے لگ گیا مگر وہ چلتا کس طرح۔آخر اس کے کسی ساتھی نے اُس پر اُس کی غلطی کو واضح کیا۔یہ الہی نصرت تھی جس نے اُس وقت جب انسانی تدابیر بریکار ہو چکی تھیں آسمان سے نازل ہوکر رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو نجات دی۔پس آسمانی نصرت اُسی وقت آتی ہے وہ جب ساری تدابیر انتہاء کو پہنچ کر ختم ہو جاتی ہیں اور کامیابی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ج دنیا دار نگاہوں میں مضحکہ خیز اور روحانی نظر والوں کیلئے رقت انگیز ہو جاتی ہیں اُس وقت خدا تعالی کی کے فضل کے دروازے کھلتے ہیں مگر اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ بندہ چلائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں محبت کا بہترین مظاہرہ وہی ہوتا ہے جو ماں کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے۔بسا اوقات ماں کی چھاتیوں میں دودھ خشک ہو جا تا ہے ہے مگر جب بچہ روتا ہے تو دودھ اُتر آتا ہے۔پس جس طرح بچے کے روئے بغیر ماں کی چھاتیوں میں دودھ نہیں اُتر سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی رحمت کو بندہ کے رونے اور چلانے سے وابستہ کر دیا ہے۔جب بندہ چلاتا ہے تو رحمت کا دودھ اُترنا شروع ہوتا ہے اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا تھا ہمیں چاہئے کہ اپنی طرف سے انتہائی کوشش کریں مگر وہ کوشش نہیں جو منافق مرا دلیا ای کرتے ہیں اور اس کے بعد جس حد تک زیادہ سے زیادہ دعاؤں کو لے جاسکتے ہیں لے جائیں۔پچھلے سال میں نے سات روزے مقرر کئے تھے مگر چونکہ فتنہ ابھی جاری ہے، شرارت کا سلسلہ بند نہیں ہوا ، مخالفوں نے اللہ تعالیٰ کی تنبیہ سے عبرت حاصل نہیں کی اور گزشتہ عذاب سے اپنی کی اصلاح نہیں کی اس لئے آؤ ہم پھر خدا تعالیٰ کے حضور چلا ئیں۔تا جس طرح بچہ کے رونے سے ماں کی چھاتیوں سے دودھ اُتر آتا ہے آسمان سے ہمارے رب کی نصرت نازل ہو اور وہ روکیں اور ان مشکلیں جو ہمارے رستہ میں ہیں دور ہو جائیں۔بعض مشکلات ایسی ہیں جن کا دور کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔ہم دشمن کی زبان کو بند نہیں کر سکتے اور اُس کے قلم کو نہیں روک سکتے۔اُن کی زبان اور قلم سے وہ کچھ نکلتا رہتا ہے جسے سننے اور پڑھنے کی ہمیں تاب نہیں۔ہم نے بار ہا حکومت کو توجہ دلائی ہے مگر اُس کے کان ہماری بات سننے سے بہرے ہیں۔وہی باتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہی جاتی ہیں اگر کسی اور کے متعلق کہی جاتیں تو ملک میں آگ لگ جاتی۔مگر وہ باتیں ہی متواتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہی جاتی ہیں لیکن کہنے والوں کی کوئی گرفت نہیں کی