خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 4

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء رہے ہیں جو ان کے یہاں رہنے کے لئے بطور دلیل پیش کی جاتی ہیں۔اگر ہم نے آپس میں لڑنا اور ایک دوسرے کے حقوق تلف ہی کرنا ہے تو پھر ان کے یہاں رہنے کا کیا فائدہ۔ہم خود ہی لڑتے رہیں گے کیا وہ جھگڑ از یادہ اچھا ہوتا ہے جو انگریزوں کی موجودگی میں ہو۔یا کیا وہ حق تلفی یا بے انصافی اچھی ہو جاتی ہے جو ان کے ہوتے ہوئے کی جائے۔آج تک ان کی طرف سے بھی یہی کہا جاتا تھا اور ہم بھی یہی کہتے تھے کہ انگریز یہاں قیام انصاف کے لئے ہیں مگر اس قوم میں ایسے افراد بھی ملتے ہیں جو انصاف نہیں کرتے۔اگر تو ایسے افراد مستثنیات سے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر رحم کرے اور اسے بدنام ہونے سے بچائے۔اور اگر انگریز حکام کا معیار اخلاق عام طور پر گر رہا ہے جو میرے نزدیک درست نہیں تو بھی میں یہی کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور پھر پرانے اعلیٰ معیار پر قائم کرے کیونکہ ہمارے اور ان کے تعلقات اچھے رہے ہیں۔جب تک اس قوم میں اچھے لوگ رہیں گے ان کے یہاں ٹھہرنے کا سامان رہے گا لیکن جس دن ان میں اچھے لوگ نہ رہے یا ان کا سٹینڈرڈ گر گیا تو اس دن نہ تیر ان کے کام آ سکیں گے ، نہ تفنگ، نہ تو ہیں نہ بمب نہ ہوائی جہاز۔آپ ہی آپ ان کی حکومت میں اضمحلال پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی حکومت کے گر نے کے سامان پیدا ہو جائیں پھر اسے کوئی قائم نہیں رکھ سکتا اور وہ ریت کے قلعہ کی مانند گر جاتی ہے۔قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق کیا اچھا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ایک کیڑا اندر ہی اندر گھن کی طرح حکومت کو کھا گیا۔جس چیز کو گھن لگ جائے وہ بظاہر درست نظر آتی ہے نقص کا پتہ اسی دن لگتا ہے جب ساری کی ساری گر جائے۔جس مکان کی چھت کو گھن لگا ہو وہ دیکھنے میں ٹھیک معلوم ہوتا ہے لیکن ایک دن یکا یک ساری چھت گر پڑتی ہے ، اسی طرح حکومتوں کا حال ہے بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ پر قائم ہے مگر ایک دن پتہ لگتا ہے کہ اندر ہی اندر گھن نے اسے کھوکھلا کر دیا ہے۔پس ہم اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کرتے ہیں کہ وہ انگریزوں کو اس برے دن سے بچائے۔سر دست تو یہ حال ہے گو غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے اور ہمیں پوری حقیقت کا علم نہیں ہوسکتا کہ ہمارے خلاف اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے ، اس میں بعض انگریز افسروں کا بھی دخل ہے۔گو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس حصہ کو حقیقتا گورنمنٹ کہتے ہیں، اسے ان کا رروائیوں کا علم ہے یا نہیں لیکن بہر حال خواہ ایسے واقعات حکومت کے علم کے بغیر ہوں ، وہ حکومت کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں ہو سکتے کیونکہ فساد