خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 3

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء فضل ہو۔اگر تو کوئی دینی کام ہو تو اس میں کامیابی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے نہ کہ کسی تدبیر سے اور اگر دنیوی ہو تو والنعتِ غَرقاً کے ماتحت کام کرنے والا کامیاب ہو جاتا ہے بعض اوقات ایک شخص اٹھتا ہے اور دیوانہ وار سب کچھ اپنے آگے بہا کر لے جاتا ہے اور بعض اوقات ٹھنڈی طبیعت والے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔مختلف قوموں کی طبائع مختلف ہوتی ہیں۔کہتے ہیں کہ جس نے فرانسیسیوں کا پہلا حملہ برداشت کر لیا ، وہ جیت گیا۔ان میں جوش ہوتا ہے وہ اگر بات کریں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی آتش فشاں پہاڑ پھٹ رہا ہے زور زور سے بولیں گے۔ہاتھ ، پیر، سر، سب حرکت کریں گے مگر اس کے بالمقابل ایک انگریز نہایت دھیما بیٹھا ہو گا اس لئے فرانسیسیوں کے متعلق مشہور ہے کہ جس نے ان کا پہلا حملہ سہہ لیا ، وہ جیت گیا۔وہ اپنا سارا جوش پہلے حملہ میں صرف کر دیتے ہیں اور جو قو میں دھیمی طبیعت کی ہوتی ہیں وہ اگر پہلا حملہ برداشت کر جائیں تو سمجھو جیت گئیں کیونکہ پھر کوئی ان کے استقلال کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس دونوں باتیں ہمارے سامنے ہیں اور ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان میں سے کون سی بات اختیار کی جائے۔ہم اس وقت ایک جنگ میں داخل ہیں، تمام مذاہب کے لوگوں میں ہمارے خلاف جوش ہے اور ایک بہت بڑا گر وہ ہمیں دکھ دینے میں لذت محسوس کر رہا ہے اور وہ قوم جس کے ہاتھ میں ہمارے ملک کا انتظام ہے اور جس کے یہاں ٹھہرنے کی وجہ ہی یہ بتائی جاتی ہے کہ تا ملک میں امن قائم رہے اس کے بعض افراد کو بھی یا دھوکا دیا گیا ہے یا شاید بعض تعصب کا شکار ہو گئے ہیں۔حالانکہ سمندر پار کے رہنے والے انگریزوں کا اس ملک میں رہنے اور ہم پر حکومت کرنے کا حق صرف اس بناء پر ہے کہ ہندوستانی با ہم امن وامان سے نہیں رہ سکتے اور وہ یہاں اس لئے ہیں کہ تا ملک کو فتنہ و فساد سے بچا کر امن قائم رکھیں۔یہی ایک دلیل ان کے یہاں رہنے کی ہے اور یہ دلیل ایک وقت تک صحیح تھی اور آئندہ بھی صحیح رہے گی مگر اس جنگ کے موقع پر ہم نے دیکھا کہ اس قوم کے بعض افراد نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی قوم کے اس جو ہر سے محروم ہیں اور یہ ناممکن نہیں۔لمبے قد والی قوموں میں بھی ٹھنگنے اور بالشتیے پیدا ہو جاتے ہیں ،سفید رنگ والوں میں بھی سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں۔پس یہ لوگ یا تو مستثنیات سے ہیں اور ان کی قوم میں جو خوبیاں ہیں، ان سے عاری ہیں اور یا پھر اس کا یہ مطلب ہے کہ اس قوم کا معیار قابلیت اب گرنے لگ گیا ہے لیکن ہمیں اس جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔مختصر یہ کہ اس قوم کے بعض افراد ان ذمہ داریوں کو بھلا