خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 5

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء بڑھنے سے خو د حکومت کو بھی ضعف پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہو گا یا کیا نہ ہو گا مگر میں نے تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک پروگرام تیار کیا ہے اور ایک سکیم جماعت کے سامنے رکھی ہے کہ اس طریق پر عمل کرو تو احراری فتنہ سے محفوظ رہو گے۔میں یقین رکھتا ہوں، خالی یقین نہیں بلکہ ایسا یقین جس کے ساتھ دلائل ہیں اور جس کی ہر ایک کڑی میرے ذہن میں ہے اور اس یقین کی بناء پر میں کہتا ہوں کہ گو جو شیلے لوگوں کو وہ سکیم پسند نہ آئے لیکن ہماری جماعت کے دوست اس سکیم پر بچے طور پر عمل کریں تو یقینا یقینا فتح ان کی ہے۔میں نے روپیہ کے متعلق جو تحریک کی تھی ، اس کا جواب جو جماعت کی طرف سے دیا گیا ہے وہ اتنا خوش آئند ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ باقی حصہ سکیم میں جماعت کمزوری دکھلائے گی۔مگر جیسا کہ میں نے کئی بار بیان کیا ہے بعض لوگ فوری بڑی قربانی کے لئے تو تیار ہو جاتے ہیں مگر مستقل اور چھوٹی قربانی نہیں کر سکتے۔میں نے ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی مگر اس وقت تک ساٹھ ہزار سے زائد کے وعدے آچکے ہیں اور بیس ہزار کے قریب نقد آ چکا ہے اس لئے بالکل ممکن ہے کہ گو میں نے پندرہ جنوری تک صرف وعدوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس تاریخ تک نقد رقم مطالبہ کے برابر یا اس سے بڑھ کر آ جائے۔جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ پر اعلان کیا تھا زائد رقم کا ایک حصہ یعنی چھ سات ہزار روپیہ تو میں قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ پر خرچ کرنا چاہتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ جلد سے جلد انگلستان آدمی بھیجے جائیں جو اس کی چھپائی وغیرہ کا جلد سے جلد انتظام شروع کر دیں اور باقی جو روپیہ بچے گا اسے آئندہ دونوں سالوں پر تقسیم کر دیا جائے گا۔اور اس صورت میں بجائے ۲۲ ہزار کے آئندہ سالوں میں صرف چودہ پندرہ ہزار روپیہ ہی جماعت سے مانگنا پڑے گا ، باقی پہلے ہی جمع ہو گا۔مگر میں یہ بتانا گا، چاہتا ہوں کہ یہ روپیہ کی تحریک اصل تحریک کا سواں حصہ بھی نہیں ، بقیہ تحریک میں جو اصول ہیں وہ بہت زیادہ مفید اور اہم ہیں اس لئے ان پر زیادہ سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے خالی روپیہ جمع کر لینے سے کچھ نہیں بن سکتا کیونکہ سواں حصہ تو کوئی چیز نہیں۔ایک شخص ایک گلاس پانی یا دودھ میں تین چمچ شکر ڈالنے کا عادی ہے ، ایک پیچ میں ڈھائی تین ڈرام شکر آتی ہے اور اس طرح وہ قریباً ایک اونس شکر ڈالتا ہے لیکن اگر وہ اس کا سواں حصہ یعنی صرف اڑھائی رتی ڈالے تو کیا اس سے پیالہ میٹھا ہو جائے