خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 845 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 845

خطبات محمود ۸۴۵ سال ۱۹۳۵ء انہوں نے بادشاہ کے سامنے اُس کی شکایت کی اور کہا کہ حضور ! دیکھئے یہ کتنا گستاخ ہو گیا ہے آپ اس کی جتنی عزت افزائی کرتے ہیں وہ اتنا ہی زیادہ گستاخ ہوتا جاتا ہے۔آپ کو دشمن کے ملک میں اکیلا چھوڑ کر خود کہیں چلا گیا ہے۔محمود ایک عقلمند اور سمجھ رکھنے والا بادشاہ تھا۔وہ جانتا تھا کہ ایاز بڑا وفادار جرنیل ہے۔شکایت کرنے والوں سے اُس نے کہا اچھا! اُسے آنے دو، اُس سے پوچھوں گا۔اسی اثناء میں ایاز مع اپنی فوج کے آپہنچا اُس کے ساتھ ایک قیدی تھا۔بادشاہ نے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے ؟ ایاز نے جواب دیا حضور نے دو چار بار اُس پہاڑی کی طرف نگاہ اُٹھا کر دیکھا تھا میں نے سوچا کہ محمود کی نظر بلا وجہ کسی طرف نہیں اُٹھ سکتی ضرور وہاں کوئی بات ہے چنانچہ اپنے دستہ کو ساتھ لے کر میں اُس طرف گیا۔تو دیکھا کہ یہ شخص درہ میں جہاں سے سڑک گزرتی تھی ایک پتھر کی اوٹ میں کمان لئے اس غرض سے بیٹھا تھا کہ حضور گزریں تو نشا نہ کرے حضور کی نگاہ اُس طرف اُٹھتی دیکھ کر میں وہاں پہنچا اور اسے گرفتار کر لیا۔پس جن کی نیت سمجھنے کی ہوتی ہے وہ اشاروں سے ہی سمجھ جاتے ہیں لیکن جن کی نیت سمجھنے کی نہ ہو وہ وضاحت کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔نہ سمجھنے والوں کی ایک مثال بھی بیان کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک مکان کی فروخت کا سوال تھا جو انجمن کو وصیت میں ملا تھا۔حضرت خلیفہ اول چاہتے تھے کہ وہ ایک مصیبت زدہ شخص کو کم قیمت پر دے دیا جائے۔مکان کی قیمت جس وقت وہ وصیت میں دیا گیا قریباً دو ہزار تھی اور انجمن ۴ ہزار ، ۵ ہزار لینا چاہتی تھی۔بعض ممبروں نے حضرت خلیفہ اول کی مخالفت کی اور کئی بہانے بنائے۔آخر حضرت خلیفہ اول سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اب اس میں دخل نہیں دیتا جو تمہاری مرضی ہو کر و۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان الفاظ کا یہی مطلب تھا کہ آپ ناراض ہیں۔یہ تحریر انجمن میں پیش کی گئی اور مجھے بھی بلایا گیا اور کہا گیا کہ حضرت خلیفہ اول نے اجازت دے دی ہے کہ انجمن جس طرح چاہے کرے۔میں نے جب وہ تحریر پڑھی تو میں نے کہہ دیا کہ یہ اجازت نہیں بلکہ اظہار ناراضگی ہے۔اور انجمن نے اس کو فر وخت کرنے کی جو تجویز کی ہے، میں اس کے خلاف ووٹ دوں گا۔اس پر ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب بالخصوص اور بعض دوسرے ممبر بالعموم بار بار مجھے یہ کہتے میاں صاحب ! تقویٰ سے کام لینا چاہئے قوم کا روپیہ ہے۔مگر میں نے کہا کہ میں اس کی ضرور مخالفت کروں گا اور میرے نزدیک تقویٰ یہی ہے۔چنانچہ میں نے