خطبات محمود (جلد 16) — Page 844
خطبات محمود ۸۴۴ ۴۸ سال ۱۹۳۵ء اشاروں میں ہی باتیں سمجھنے کی کوشش کرو فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔چونکہ آج جمعہ اور جلسہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور نماز کے بعد مجھے تقریر بھی کرنی ہو گی جو وہی مقصد رکھتی ہے جو خطبہ کا ہے اور چونکہ رسول کریم علیہ خطبہ جمعہ مختصر اور نماز لمبی فرمایا کرتے تھے اور اس وجہ سے بھی کہ میرا گلا با لکل بیٹھا ہوا ہے میں آج اختصار کے ساتھ چند باتیں بیان کرتے ہوئے خطبہ ختم کر دوں گا۔خطبوں اور تقریروں کی اصل غرض نصیحت کرنی ہوتی ہے اور نصیحت دراصل دل سے پیدا ہوا کرتی ہے جو لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہوتی ہے اور جن لوگوں نے بات سمجھنی ہوتی ہے وہ اشاروں سے بھی سمجھ جاتے ہیں ان کے لئے لمبی تقریروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔مگر وہ لوگ جن کی سمجھنے کی نیت نہیں ہوتی وہ وضاحت کے بعد بھی کچھ کے کچھ معنی کر لیتے ہیں۔ایک مسلمان بادشاہ گزرا ہے جو بہت کچھ بدنام ہے قریباً قریباً اسی قسم کے اعتراضات اُس پر ہوتے ہیں جو مجھ پر کئے جاتے ہیں۔اُس کا نام بھی وہی ہے جو میرا ہے وہ بادشاہ محمود غزنوی ہے۔لوگ مجھ پر بھی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے لڑائی ڈلوا دی اور اُس کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ لڑائی کے ذریعہ ملک فتح کرتا تھا۔محمود غزنوی کے غلاموں میں سے ایک غلام ایاز تھا۔ایک دفعہ محمود ہندوستان سے واپس غزنی جا رہا تھا۔اُس کے ساتھ جو جرنیل تھے اُن میں سے ایک ایا ز بھی تھا۔وہ اپنے دستہ فوج کو لے کر گھوڑے کو ایڑ لگا کر ایک سمت چلا گیا۔درباری لوگ ایاز سے حسد کرتے تھے