خطبات محمود (جلد 16) — Page 846
خطبات محمود ۸۴۶ سال ۱۹۳۵ء مخالفت کی مگر اکثریت میرے خلاف تھی۔اس لئے فیصلہ یہ ہوا کہ زیادہ قیمت لے لی جائے کم نہ لی جائے۔اس فیصلہ کی اطلاع جب حضرت خلیفہ اول کو ہوئی تو آپ سخت ناراض ہوئے۔اُس وقت آپ مسجد مبارک کے اوپر والے کمرہ میں جہاں پہلے مولوی عبد الکریم صاحب رہا کرتے تھے اور بعد میں آپ رہنے لگ گئے تھے بیٹھے تھے۔آپ نے سب ممبروں کو بلایا اور اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا سب ممبروں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ان میں سے ایک مجھے بھی بلا لایا۔مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا۔میاں ! انہوں نے میرے حکم کی تعمیل نہ کی اور اس کے خلاف فیصلہ کیا۔کیا آپ نے بھی میرا منشاء نہ سمجھا ؟ اُس وقت میں نے کہا کہ یہ لوگ مجھے بار بار تقویٰ کی نصیحت کرتے ہیں پھر بھی میں نے ان کے خلاف ووٹ دیا اور کہا کہ میں اسی میں تقویٰ سمجھتا ہوں اور کہا کہ میں اخیر تک مخالفت کرتا رہا۔تب آپ نے اُن سے پوچھا۔تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے زور سے مخالفت نہیں کی تھی۔تو جب کوئی بات نہ ماننی ہو تو اس کے لئے بہانہ بنا لینا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔مگر ماننے والے اشارہ سے مان لیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ ہمیشہ خطبہ چھوٹا اور نماز لمبی پڑھا کرتے تھے۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جتنی دیر میں خطبہ پڑھا کرتے اِس سے دو گنا وقت نماز میں صرف فرماتے لے اس زمانہ میں چونکہ لوگ اشاروں سے مانتے نہیں اس لئے لمبی تقریریں کرنی پڑتی ہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اِشاروں سے بات کو سمجھنے کی کوشش کیا کرو۔ادھر اشارہ ہوا اُدھر اُس پر عمل شروع کر دیں اور اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کریں کہ جب کوئی نیک بات کہے اُس کو فور أمان لیں۔لمبی تحریکوں اور تقریروں کا انتظار نہ کیا کریں۔لمبی تقریروں کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے مگر وہ علمی تقریریں ہوتی ہیں وعظ ونصیحت کی نہیں۔پس اس نصیحت کے ساتھ کہ دوستوں کو چاہئے کہ اشاروں میں بات کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں میں آج کے خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔ا بخاری کكتاب الجمعة باب تخفيف الصلوة والخطبة ( الفضل ۴ /جنوری ۱۹۳۶ء)