خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 785 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 785

خطبات محمود ۷۸۵ سال ۱۹۳۵ء خدا تعالیٰ اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ وہ فرماتا ہے اِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَالْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں اور پوچھیں کہ خدا کہاں ہے جیسے عاشق پوچھتا پھرتا ہے کہ میرا محبوب کہاں ہے تو انہیں کہہ دو کہ میں بالکل پاس ہوں۔یہاں ایک شخص ایک دفعہ عشق میں پاگل ہو گیا۔وہ چوہڑہ تھا اور کسی چوہڑی پر عاشق ہو گیا۔میں نے اُسے دیکھا وہ گلیوں میں مجنونانہ طریق پر پھرتا اور جہاں اُسے کوئی آدمی ملتا وہ آسمان کی طرف آنکھیں اُٹھا کر نہایت حسرت بھرے لہجے میں کہتا اے رہا ! تو میری محبوبہ مجھے ملا دے۔وہ جہاں جاتا اُس کی یہی صدا ہوتی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا عشق اگر انسان کے دل میں پیدا ہو جائے تو پھر قدرتی طور پر وہ سوال کرتا پھرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے۔پس عباد سے مراد اس جگہ عشاق الہی ہی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح عاشق ہر جگہ دوڑا پھرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا معشوق کہاں ہے اسی طرح إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ جب میرے بندے تجھ سے میرے م متعلق پوچھیں تو انہیں کہہ دینا کہ میں قریب ہی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے عشاق کے دل کو توڑنا نہیں چاہتا اور نہ انہیں مایوس کرنا چاہتا ہے۔تو رمضان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کا ذریعہ بنایا ہے اور ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ اس سے پوری طرح فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے۔بعض لوگ چھوٹے چھوٹے عذرات پر روزے چھوڑ دیتے ہیں۔میں انہیں کہتا ہوں وہ ایک اتنی بڑی نعمت ضائع کر رہے ہیں کہ اگر وہ اگلی زندگی میں کروڑوں سال بھی پچھتائیں گے تو یہ نعمت نہیں حاصل ہوگی۔ہاں جو بیمار ہیں میں انہیں بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ باہر لوگوں کے سامنے نہ کھایا کریں اس سے نہ صرف رمضان کی بے حرمتی ہوتی ہے بلکہ بعض لوگوں کو ٹھو کر بھی لگ جاتی ہے۔بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ بظا ہر نظر نہیں آتیں لیکن ڈاکٹر جانتا ہے کہ اس بیماری میں روزہ منع ہے۔مثلاً ضعف دل کی بیماری بظاہر نظر نہیں آ سکتی اور دیکھنے میں ایک شخص مضبوط اور ہٹا کٹا دکھائی دیتا ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ ایسا مضبوط شخص سارے شہر میں کوئی نہیں ہو گا لیکن ضعف قلب کی وجہ سے وہ روزہ نہیں رکھ سکتا۔ایسا آدمی جب بازار میں کھاتا پیتا ہے تو کمزور ایمان والے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہاں کے لوگ روزے نہیں رکھتے اور اس طرح انہیں ٹھوکر لگ جاتی ہے۔پس جو لوگ شرعی عذر کی بناء پر روزے نہیں رکھ سکتے وہ بھی باہر لوگوں کے سامنے