خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 786 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 786

خطبات محمود کھایا پیا نہ کریں۔LAY سال ۱۹۳۵ء غرض دوستوں کو رمضان میں خصوصیت سے عبادت کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں۔بالخصوص یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے حملوں سے ہماری جماعت کو محفوظ رکھے۔میں بتا چکا ہوں کہ آج کل خصوصیت سے ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِى نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ " آج چاروں طرف سے دشمن ہم پر حملہ آور ہے۔اور چاہتا ہے کہ ہمیں مٹادے اور ہماری طاقتوں کو کچل دے تم ان دشمنوں کے مقابلہ کی طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے کیونکہ تم کمزور ہو۔اور دشمن کے ساتھ صرف رعایا کا اکثر حصہ ہے بلکہ حکام کا بھی ایک حصہ ملا ہوا ہے۔پس اس کے مقابلہ کی یہی صورت ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے آگے جھکو اور اس سے ان دشمنوں کی ہلاکت کی دعائیں کرو۔آجکل خدا تمہارے پاس آیا ہوا ہے۔تم اُس سے باتیں کر سکتے اور اپنی حاجتیں اُس سے منوا سکتے ہو۔حدیثوں میں آتا ہے اللہ تعالیٰ روزانہ پچھلی رات سمائے دنیا پر اترتا اور لوگوں کی دعاؤں کو سنتا ہے۔مگر آجکل رمضان کے دن ہیں جن میں خدا تعالیٰ اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔پس تم تہجد میں دعائیں کرو اور اتنی شدت اور کثرت سے دعائیں کرو کہ جب عید آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ لے کر آئے کہ تمہارے دشمنوں کو تباہ کر دیا جائے گا اور تمہیں اپنے مقصد میں کامیاب کر دیا جائے گا۔یہ موقع ہے جس سے تم فائدہ اُٹھا سکتے ہو اور میں نے وقت پر تمہیں بتا دیا ہے۔پس تم سارے مل جاؤ اور جس طرح پاگل کہتا پھرتا ہے کہ میرا معشوق مجھے مل جائے اسی طرح تم بھی کہو کہ اے خدا! اب ہم تجھے نہیں چھوڑیں گے جب تک تو یہ فیصلہ نہ کر دے کہ ہمارے ہاتھ پر اسلام کی فتح ہو گی اور ہمارے دشمنوں کو ہلاک کر دیا جائے گا۔اور یاد رکھو تمہاری یہ دعائیں بریکارنہیں جائیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کریں گی اور تمہارے دشمنوں کو نا کام کریں گی۔اور گو دنیا میں وہ فیصلہ اتنی جلدی ظاہر نہ ہولیکن آسمان پر یہ فیصلہ ہوکر رہے گا۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ ہمارے ایک احمدی کو احراریوں نے مارا ہے اور وہ اس وقت بے ہوش پڑا ہے میں نے ڈاکٹر صاحب کو وہاں بھجوادیا لیکن میں تمہیں کہنا چاہتا ہوں کہ مارتو کیا چیز ہے اگر احراری تم میں سے کسی کو قتل بھی کر دیں تو تم اپنے جذبات پر قابو رکھو اور کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو خلاف قانون ہو۔تم سے وہ بہت زیادہ قیمتی جانیں تھیں جن کے ساتھ مکہ