خطبات محمود (جلد 16) — Page 784
خطبات محمود ۷۸۴ سال ۱۹۳۵ء کی تلاوت کر نا عشق کی تلاوت کرنا ہوا اور تمہارا بھوکا رہنا عشق میں بھوکا رہنا ہو۔تم میں سے بیسیوں نہیں سینکڑوں ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ملا اور انہیں رویا اور کشوف اور الہامات ہوئے۔یہ مقام انہیں اسی لئے حاصل ہوا کہ وہ عشق سے لبریز دل لے کر خدا کے حضور گئے اور خدا تعالیٰ انہیں مل گیا۔لیکن دوسرے فلسفیانہ رنگ میں جاتے اور نا کام واپس آتے ہیں۔جہاں فلسفیانہ جذبات ہوں وہاں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ خدا تعالیٰ آتا ہے اور بندہ خادم لیکن جہاں محبت کا رنگ غالب آتا ہے وہاں یہ سوال نہیں رہتا کہ کون بڑا ہے اور چھوٹا کون۔پس خدا تعالیٰ کے سامنے بھی جو فلسفیانہ رنگ میں جائے گا اُس کے لئے امتیاز مراتب قائم رہے گا لیکن جو عشق کے رنگ میں رنگین ہو کر جائے گا اُسے خدا تعالیٰ خالق و مالک ہونے کے باوجو د مل جائے گا۔مثنوی رومی والے لکھتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک بدوی کو دیکھا۔وہ جنگل میں اپنی گدڑی اوڑھے بیٹھا جوئیں مارتا چلا جا رہا ہے۔لیکن اُس کی آنکھیں عشق سے چمک رہی ہیں اور وہ کہ رہا ہے۔اے میرے رب ! اگر تو مجھے مل جائے تو میں سارا دن تیری جوئیں نکالتا رہوں۔تیرے پاؤں میں کانٹے چھ جائیں تو کانٹے نکال دیا کروں، میل چڑھ جائے تو تجھے نہلا دیا کروں، بکری کا تازہ تازہ دودھ پلایا کروں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ باتیں سنیں تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے سوٹا اُٹھا کر اُسے مارا اور کہا یہ کیا نا معقول باتیں کر رہا ہے۔بھلا خدا کو ان باتوں سے کیا نسبت ہے۔وہ افسردہ ہو کر اور چوٹ کی جگہ کو مل ملا کر ایک طرف بیٹھ رہا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام تھوڑی دُور ہی آگے گئے تھے کہ انہیں الہام ہوا اے موسیٰ ! آج تو نے بڑا گناہ کیا۔ہمارے ایک عاشق کا تو نے دل دُکھا دیا۔وہ تو جوش محبت میں پاگل ہو کر باتیں کر رہا تھا۔اُس کی یہ نیت تو نہ تھی کہ وہ مجھ سے دُور ہو جائے بلکہ وہ تو میرے قریب آنا چاہتا تھا۔پس عشق کا رنگ بالکل نرالا ہوتا ہے۔عشق بعض دفعہ یہاں تک انسان کے رگ وریشہ میں اثر کر جاتا ہے کہ کمزور دماغ والے پاگل ہو جاتے ہیں۔مگر جو خدا تعالیٰ کی محبت میں پاگل ہوں خدا تعالیٰ ان کی بھی لوگوں سے عزت کراتا ہے۔اور لوگ انہیں یہ نہیں کہتے کہ یہ پاگل ہیں بلکہ کہتے ہیں یہ مجذوب ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے عشق کی یہاں تک قدر کی جاتی ہے کہ اُس کی محبت میں پاگل ہو کر بھی لوگ پاگل نہیں کہلاتے بلکہ مجذوب کہلاتے ہیں۔پس محبت الہی سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرو۔رمضان میں