خطبات محمود (جلد 16) — Page 757
خطبات محمود ۷۵۷ سال ۱۹۳۵ء مگر میں یہ روح پیدا کرنا نہیں چاہتا اس لئے یہ روپیہ بہر حال واپس ہوگا۔اس کے بعد اگر کوئی دیتا ہے تو ہم اسے روک نہیں سکتے لیکن اس تحریک میں کوئی جس وقت سے شامل ہو وہیں سے اُس کے تین سال شروع ہونگے۔اور یہ فنڈ سلسلہ کی عظمت و شوکت اور مالی حالت کی مضبوطی کے لئے جاری رہے گا اور اس کی طرف جماعت کی مزید توجہ بلکہ بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔پچھلے سال میں نے وقف کی بھی تحریک کی تھی۔اس پر سینکڑوں نو جوانوں نے اپنے نام دیئے۔مگر ان میں سے بہت سے تھے جن کی خدمات سے فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکا اور بعض جن سے ہم نے فائدہ اُٹھانا چاہا اُن میں دینی لحاظ سے بہت کمزوری دیکھی گئی۔دینی تعلیم بہت کم تھی حتی کہ بعض قرآن شریف کے ترجمہ سے ناواقف تھے۔اس پر مجھے بہت فکر ہوئی کہ جو لوگ قرآن کریم کا ترجمہ تک نہیں جانتے وہ اسلام کی روح کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ مجھے اس طرح علم ہو گیا۔چند آیات یا سورتوں کا جاننا کافی نہیں۔ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ سارے قرآن کا ترجمہ اور کچھ نہ کچھ حدیث بھی جانتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔دینی علوم کے مطالعہ میں دو قوموں کو خاص سہولتیں حاصل ہیں۔اہل عرب کو قرآن و حدیث سمجھنے کی اور ہندوستانیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے سمجھنے کی۔باقی تمام ممالک پر دُہرا بو جھ ہے اور انہیں اپنی ملکی زبان کے علاوہ دین کو سمجھنے کے لئے دو غیر ملکی زبانیں سیکھنی پڑتی ہیں۔ہمارے لئے یہ بہت بڑی سہولت ہے گویا ہمارا کام آدھا ہو گیا۔دین کی مکمل تشریح اردو میں ہے اور اصل دین عربی میں ، یہ بہت بڑی سہولت ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئی ہے۔پس چاہئے کہ اس کی قدر کرو اور کوشش کرو کہ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہے جسے کم از کم قرآن کریم کا ترجمہ نہ آتا ہو۔یہ کوئی مشکل نہیں جب کسی کام کا ارادہ کر لیا جائے تو کوئی مشکل نہیں رہتی۔صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ قربانی کے کام کو عارضی مت سمجھو اور جب یہ نقطہ نگاہ ہو جائیگا تو کوئی کام بھی مشکل نہ رہے گا۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔اس موقع پر میں یہ کہہ رہا تھا کہ وقف کی تحریک میں اس سال پھر کرتا ہوں۔پچھلی لسٹیں بھی ابھی ہیں ان میں سے بھی دیکھ لئے جائیں گے لیکن اس عرصہ میں کئی نئے گریجوایٹ بنے اور مولوی فاضل ، میٹرک کے امتحانات پاس کر چکے ہیں۔کئی ڈاکٹری پاس کر کے فارغ ہیں اس لئے انہیں موقع دینے کے لئے پھر اس تحریک کا اعلان کرتا ہوں۔