خطبات محمود (جلد 16) — Page 756
خطبات محمود ۷۵۶ سال ۱۹۳۵ء گا۔جو آج اس میں شامل ہو گا اُس کے لئے بھی تین سال تک جاری رہے گا۔سوائے اسکے کہ ( خدا نخواستہ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے لئے ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ وہ شامل نہ رہ سکے اور پھر تین سال کے بعد بھی بہر حال یہ رقم واپس لینی ہوگی چندہ میں نہیں دی جا سکے گی۔ہاں یہ مقررہ کمیٹی کا اختیار ہوگا کہ خواہ نقد رو پیر دے یا جائداد کی صورت میں لیکن چوتھے سال بہر حال جو شخص امانت فنڈ کو ختم کرنا چاہے اُسے یہ رقم واپس دی جائے گی۔یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص رقم یا جائداد پر قبضہ کر کے خود اپنی خوشی سے اسے چندہ میں دے دے۔مگر امانت جمع کرانے والے کے قبضہ میں آنے سے پہلے اسکی خواہش کے باوجود بھی اسے چندہ میں قبول نہ کیا جائیگا۔کیونکہ قبضہ میں آنے کے بعد بھی انسان کی نیت بدل جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے۔آپ کے ایک پرانے صحابی حکیم فضل الدین صاحب تھے آجکل کے نوجوان تو شاید اُن سے واقف نہ ہوں۔اُن کے تعارف کے لئے بتاتا ہوں کہ وہ بہت پرانے اور مخلص صحابی تھے۔حضرت خلیفہ اول کے دوست تھے اور انکے ساتھ ہی یہاں آگئے۔اُن کی دو بیویاں قادیان آنے سے پہلے کی تھیں۔ایک شادی انہوں نے قادیان آ کر کی۔پہلی بیویوں کے متعلق انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ اُن کا مہر پانچ پانچ سو تھا جو انہوں نے معاف کر دیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ یہ معافی نہیں۔آپ ان کی جھولی میں ڈال دیں اور پھر اگر وہ کوٹا دیں تو معافی کہلائے گی۔انہوں نے کہا کہ حضور ! وہ ہمیشہ یہ کہتی رہتی ہیں کہ ہم نے معاف کیا۔حضور نے فرمایا اس طرح کی معافی کوئی معنے نہیں رکھتی ہمارے ملک کی عورتیں جب دیکھتی ہیں کہ مہر وصول تو ہو گا نہیں تو پھر وہ یہ خیال کر کے کہ احسان ہی کیوں نہ کر دیں کہ دیتی ہیں کہ معاف کیا۔اس پر حکیم صاحب مرحوم نے حضرت خلیفہ اول یا کسی اور سے قرض لے کر اُن کی جھولی میں پانچ پانچ سو روپیہ ڈال دیا اور کہا تم دونوں نے مجھے معاف تو پہلے سے ہی کر دیا ہوا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ پہلے انکی جھولی میں روپیہ ڈال دو پھر وہ معاف کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں۔اس لئے میں نے روپیہ تم کو دے دیا ہے۔اب تم اگر چاہو تو یہ روپیہ مجھے دے سکتی ہو اس پر انہوں نے کہا کہ اب تو ہم واپس نہیں کریں گی۔ہم تو یہ سمجھتی تھیں کہ مہر کوئی دیتا تو ہے نہیں چلو معاف ہی کر دیں۔تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قادیان میں جو کچھ دیا جائے وہ چندہ ہی ہے۔اسے واپس کیا لینا ہے