خطبات محمود (جلد 16) — Page 758
خطبات محمود ۷۵۸ سال ۱۹۳۵ء گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی غیر ممالک میں آدمی بھیجے جائیں گے۔کچھ عرصہ ان کو الاؤنس دیا جائے گا تا وہ زبان سیکھ سکیں اور اپنے لئے کام پیدا کرسکیں۔اس کے بعد جب تک ان کے پاس روپیہ نہ ہو صرف ڈاک کا خرچ دیا جائے گا اور جب خدا تعالیٰ انہیں روپیہ دے دے تو یہ بھی نہیں دیا جائے گا۔بعض ممالک میں تین چار، بعض میں پانچ چھ بعض میں آٹھ نو مہینے کام مہیا ہونے اور زبان سیکھنے پر لگتے ہیں اس عرصہ میں انہیں قلیل ترین گزارہ دیا جائے گا۔اس تحریک کے ماتحت اس وقت تک پانچ نوجوان غیر ممالک میں جاچکے ہیں۔اور آٹھ نو تیار ہیں جنہیں قرآن کریم اور دینی تعلیم دی جارہی ہے۔انہیں پچھلے سال کی تحریک کے ماتحت روانہ کر دیا جائے گا۔اور اس سال کے لئے اور نوجوان درکار ہیں۔ایک ڈاکٹر کو بھی باہر بھیجا گیا ہے اور تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر اور حکیم بہت زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔اسی طرح پیشہ ور لوگ بھی مفید ہو سکتے ہیں۔اچھے لوہار دنیا کے ہر علاقہ میں خصوصاً آزادملکوں میں جہاں ہتھیار وغیرہ بنتے ہوں بہت کامیاب ہو سکتے ہیں۔چین اور افریقہ کے کئی علاقوں میں ان کی بہت قدر ہو سکتی ہے۔عرب میں نہیں کیونکہ وہاں کے لوگ تلوار بنانے میں ماہر ہیں۔اسی طرح ڈرائیوری جاننے والوں کے لئے ابھی کافی گنجائش ہو سکتی ہے۔کسی ملک میں پہنچ کر کوئی سیکنڈ ہینڈ لاری یا موٹر لے کر فوراً کام شروع کیا جا سکتا ہے۔بی۔اے مولوی فاضل اور میٹرک پاس بھی کام دے سکتے ہیں۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ وہ ہاتھ سے کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔پھیری کے ذریعہ پہلے دن ہی روزی کمائی جاسکتی ہے۔ہم تو کچھ مدد بھی دیتے ہیں لیکن ہمت کرنے والے نو جوان تو بغیر مدد کے بھی کام چلا سکتے ہیں۔تم میں سے ایک نو جوان نے گزشتہ سال میری تحریک کو سنا۔وہ ضلع سرگودھا کا باشندہ ہے۔وہ نوجوان بغیر پاسپورٹ کے ہی افغانستان جا پہنچا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔حکومت نے اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تو وہاں قیدیوں اور افسروں کو تبلیغ کرنے لگا اور وہاں کے احمدیوں کو بھی وہیں واقفیت بہم پہنچائی۔اور بعض لوگوں پر اثر ڈال لیا۔آخر افسروں نے رپورٹ کی کہ یہ تو قیدیوں میں بھی اثر پیدا کر رہا ہے ملانوں نے بھی قتل کا فتوی دیا۔مگر وزیر نے کہا کہ یہ انگریزی رعایا ہے اسے ہم قتل نہیں کر سکتے۔آخر حکومت نے اپنی حفاظت میں اسے ہندوستان پہنچا دیا۔اب وہ کئی ماہ کے بعد واپس آیا ہے اُس کی ہمت کا یہ حال ہے کہ جب میں نے اسے کہا کہ تم نے غلطی کی اور بہت ممالک تھے جہاں تم جاسکتے تھے اور وہاں گرفتاری