خطبات محمود (جلد 16) — Page 755
خطبات محمود ۷۵۵ سال ۱۹۳۵ء اس کے بعد میں امانت فنڈ کی طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔پچھلے سال بھی میں نے اس کے متعلق تو جہ دلائی تھی مگر احباب نے اتنی توجہ نہیں کی جتنی کرنی چاہئے تھی۔اس فنڈ میں ساڑھے پانچ ہزار ماہوار کے قریب روپیہ آتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ یہ چیز چندے سے کم اہمیت نہیں رکھتی۔اور پھر اس میں یہ سہولت ہے کہ اس طرح تم پس انداز کر سکو گے۔مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کرتا رہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا تھا کہ اپنی آمدنی کا کم سے کم 1/4 حصہ جمع کرتے رہو ( صحیح نسبت مجھے اس وقت یاد نہیں 1/4 یا 1/3 لکھا تھا) کیونکہ جب پس انداز نہ کرو گے ثواب سے محروم رہو گے۔پس مؤمن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر قربانی کر سکنے کی نیت سے کچھ نہ کچھ پس انداز کرتا رہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے جائداد بڑھاتا ہے تو وہ دنیا دار نہیں کہلا سکتا۔جو شخص دن میں چھ کی بجائے دس گھنٹے اس لیے کام کرتا ہے کہ دین کی خدمت زیادہ کر سکے اُسے دنیا دار کون کہہ سکتا ہے وہ تو پرنکا دیندار ہے۔اسی طرح جو دین کی خاطر روپیہ جمع کرتا ہے اُسے تم بخیل نہیں کہہ سکتے۔جو شخص آواز آنے پر بھی مال حاضر نہیں کرتا ، وہ بے شک دنیا دار کہلا سکتا ہے۔جیسے رسول کریم ﷺ سے ایک شخص نے مالدار ہونے کے لئے دعا کرائی مگر پھر زکوۃ کے لئے آپ نے کسی کو اُس کے پاس بھیجا تو کہہ دیا کہ ہم خود اپنے اخراجات چلائیں یا زکوۃ دیں لے لیکن اگر کوئی شخص اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ اس کے پاس جتنی جائداد ہے اتنی ہی قربانی کی روح اُس کے اندر موجود ہے تو اُس کا جائداد پیدا کرنا بھی دین کی خدمت ہے اور اُس کا دنیا کمانے میں وقت لگا نا نماز سے کم نہیں۔پس جو شخص امانت فنڈ میں اس لئے روپیہ جمع کراتا ہے کہ اس عرصہ میں نیت کا ثواب حاصل کرتا رہے اور جائداد پیدا ہو جانے یا رقم جمع ہو جانے کے بعد خدمت دین میں زیادہ حصہ لینے کے قابل ہو سکے وہ دنیا دار نہیں۔اس لئے جو شخص ایک روپیہ تک بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے، اسے ضرور لینا چاہئے اور کوشش کرو کہ یہ رقم اور بڑھے۔میں نے پچھلے سال دس ہزار تک کہا تھا پس کوشش کرو کہ یہ دس ہزار تک پہنچ جائے بلکہ لاکھوں تک بڑھ جائے اس میں تمہارا اپنا بھی فائدہ ہے اور دین کی شوکت میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ چندہ نہیں اور نہ چندہ میں وضع کیا جا سکتا ہے۔بعض لوگ اب مجھے لکھ رہے ہیں کہ ہم نے جو روپیہ جمع کرا رکھا ہے وہ تحریک جدید کے چندہ میں وضع کر لیا جائے لیکن یہ نہیں ہوسکتا یہ برابر تین سال تک چلے