خطبات محمود (جلد 16) — Page 747
خطبات محمود ۷۴۷ سال ۱۹۳۵ء آگ جلائی جاتی ہے تو تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں ، اور تمہاری بیویاں یا جن کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اُن کی ملازم عورتیں جب اوپلے کو تو ڑ کر آگ میں ڈالتی ہیں تو کیا کوئی رحم ان کے دل میں پیدا ہوتا ہے یا اس کی کوئی اہمیت تم سمجھا کرتے ہو۔پس اچھی طرح یا د رکھو کہ جس طرح اُس وقت کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اوپلے کو آگ میں ڈالا جارہا ہے اور یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہے اسی طرح اس مقصد کے حصول کیلئے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا ہے یعنی اسلامی صداقتوں کے احیاء کے لئے تمہاری قربانیوں کی کوئی بھی قیمت نہیں کیونکہ اس مقصد کے مقابلہ میں جس کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے یہ قربانیاں کچھ بھی نہیں۔رحم وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قربان ہونے والی چیز اُس سے زیادہ قیمتی ہو جس کے لئے وہ قربان کی جاتی ہو یا وہاں کہ قربان ہونے والی شے فنا ہو رہی ہو۔دیکھو ا پلا فنا ہوتا ہے مگر تمہارے دل میں کوئی رحم پیدا نہیں ہوتا۔اس لئے کہ وہ اپنے سے بہتر وجود پیدا کرنے میں مدد دے رہا ہوتا ہے مگر ہماری قربانی تو اُپلے کی قربانی کے برابر بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہمیں آگ میں ڈال کر فنا نہیں کرتا کندن بناتا اور ترقی دیتا ہے۔سو نہ صرف یہ کہ ہمارا مقصد اتنا اعلیٰ ہے کہ کوئی قربانی اس کے مقابلہ میں حقیقت نہیں رکھتی۔کیونکہ ہم فنا نہیں ہوتے بلکہ شکل تبدیل کر کے اعلیٰ درجہ حاصل کر لیتے ہیں اس لئے ہماری قربانیاں اور تکلیفیں ایسی نہیں کہ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے اصل مقصد کو بھلا دیا جائے پس ضرورت صرف نقطہ نگاہ کی تبدیلی کی ہے۔اسلام احمدیت کا نام ہے وہی اسلام جسے رسول کریم ﷺ دنیا میں لائے مگر اسلام نام اس چیز کا نہیں کہ ظہر اور عصر کی نمازوں کی چند رکعتیں پڑھ لو۔یہ تو قشر ہے۔اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کی صداقت اور اُس کے نور کے دنیا میں قائم ہو جانے کا۔اور نور الہی کی شعاعوں کے پھیلنے میں جو چیزیں حائل ہیں اُن کو مٹا دینے کا۔اس غرض کے لئے ایک ظاہری شکل بھی پیدا کی جاتی ہے جو نماز ہے جیسے فوج وردیوں کا ، سلام کرنے کا ، یا مارچ کرنے کا نام نہیں بلکہ نام ہے اُس سپرٹ کا کہ ملک کی خاطر اگر تمام انسانوں کو بھی ہلاک کرنا پڑے تو کر دیا جائے اور ذرا دریغ نہ کیا جائے وہ وردیاں اور وہ سلام اور وہ مار چنگ کس کام کا جس کے پیچھے یہ روح نہیں۔اگر یہ روح موجود ہے تو اس قشر کی بھی کوئی قیمت ہو سکتی ہے ورنہ نہیں دیکھو! بادام کے چھلکے کی قدر تم اُسی وقت تک کرتے ہو جب تک مغز اس کے صلى الله اندر ہوتا ہے جب وہ نکال لیا جائے تو چھلکے کو فوراً پھینک دیا جاتا ہے۔