خطبات محمود (جلد 16) — Page 746
خطبات محمود ۷۴۶ سال ۱۹۳۵ء تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر چیز ہماری خدمت پر لگ جائے۔ہماری حیثیت ہے کیا۔ایک چیونٹی یا مکھی کو ہاتھی سے جو نسبت ہوتی ہے دنیا کے مقابلہ میں ہماری نسبت اس سے بھی کم ہے لیکن یہ چاند اور ستارے جن کے دنیا سے فاصلوں کا بھی تا حال علم نہیں ہو سکا۔اب تک جو تحقیقات ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ اسی ہزار میل چلتی ہے۔ایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈ اور ایک گھنٹہ میں ساٹھ منٹ ہوتے ہیں ۲۴ گھنٹوں کا ایک دن تمہیں دنوں کا ایک مہینہ اور تین سو ساٹھ دنوں کا ایک سال ہوتا ہے۔دنیا نے اس وقت تک جو علم حاصل کیا ہے وہ یہی ہے کہ دنیا کا باہم فاصلہ بارہ ہزا ر روشنی کے سالوں کا ہے یعنی بارہ ہزار کو تین سو ساٹھ سے ضرب دو جو نتیجہ نکلے اسے تمہیں سے اسکے ماحصل کو ۲۴ سے اور پھر اُسے ساٹھ سے اور اس کے ماحصل کو پھر ساٹھ سے ضرب دو تو اتنے میں بنتے ہیں کہ ان کے پڑھنے پر بھی خاصہ وقت خرچ ہوتا ہے اور ابھی معلوم نہیں نئی تحقیقاتوں کے نتیجہ میں اس فاصلہ میں اور کتنا اضافہ ہو جاتا ہے۔آج سے چند سال قبل یہ فاصلہ صرف تین ہزار روشنی کے سالوں کا سمجھا جاتا تھا اتنے بڑے عالم کو اللہ تعالیٰ نے جو انسان کی خدمت پر لگایا ہوا ہے تو یقیناً انسانی اعمال اس خدمت کا مقصود نہیں ہو سکتے۔ذرا غور تو کرو کہ کروڑوں سال سے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ایک رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کو خاص تاریخوں میں گرہن لگے تا اس گمنام بستی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کی سچائی دنیا پر ثابت ہو۔اسے دیکھ کر کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ انسانوں کے لئے ہو رہا ہے؟ نہیں بلکہ سچائی کی خاطر ہو رہا ہے۔اس لئے ہورہا ہے کہ تا خدا کا نور د نیا میں پھیل سکے پس کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ جس امر کے لئے خدا تعالیٰ نے اس قدر وسیع نظام بنایا ہے اسے معمولی عذروں سے وہ نظر انداز کر دے گا۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ اتنا بڑا سلسلہ چلانے کے بعد تمہارا یہ عذر قبول کرے گا کہ مخالفت اور مشکلات بہت تھیں اس لئے ہم چپ کر کے بیٹھ گئے۔یا یہ عذرکسی کا قبول کر لے گا کہ ایک عرصہ تک قربانی کے بعد میں آرام کرنے کے لئے بیٹھ گیا تھا۔ایک ادنی سی چیز بنانے کے لئے ہزاروں روپیہ کی قربانی کرنی پڑتی ہے، ایک چھوٹے سے ملک کے لئے ہزاروں لاکھوں جانوں کو قربان کر دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے نور کو پھیلانے اور دائمی سچائی کو دنیا میں قائم کرنے کے مقابلہ میں ہماری ہستی ہی کیا ہے کہ قربانی کے وقت ہماری طرف سے کوئی عذر قبول کیا جا سکے۔ہمیشہ اس مقصد کو سامنے رکھو جس کے لئے خدا نے تمہیں پیدا کیا ہے۔جب صبح کے وقت گھروں میں