خطبات محمود (جلد 16) — Page 748
خطبات محمود ۷۴۸ سال ۱۹۳۵ء بچپن میں میں نے ایک رؤیا دیکھا تھایہ غالبا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے یا آپ کی وفات کے قریب کی یعنی چار پانچ ماہ کے عرصہ کے اندر کی۔اُس وقت حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان میں ہی رہا کرتے تھے۔مرز اسلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کی طرف جو گلی جاتی ہے اس کے اوپر جو کمرہ اور محن ہے اس میں آپ کی رہائش تھی۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس صحن میں ہوں اور اس کے جنوب کی طرف حکیم غلام محمد صاحب امرتسری جو حضرت خلیفہ اول کے مکان میں مطب کیا کرتے تھے کھڑے ہیں اُن کو میں سمجھتا ہوں کہ خدا کے تصرف کے ماتحت ایسے ہیں جیسے فرشتہ ہوتا ہے میں تقریر کر رہا ہوں اور وہ کھڑے ہیں۔میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے جسے میں سامعین کو دکھاتا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اور لوگ بھی ہیں مگر نظر نہیں آتے گویا ملائکہ یا اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جو نظروں سے غائب ہیں۔میں انہیں وہ آئینہ دکھا کر کہتا ہوں کہ خدا کے نور اور انسان کی نسبت ایسی ہے جیسے آئینہ کی اور انسان کی۔آئینہ میں انسان اپنی شکل دیکھتا ہے اور اس میں اس کا حسن ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس کی خوب قدر کرتا ہے اور سنبھال سنبھال کر ارد گرد سے بچا کر رکھتا ہے مگر جوں ہی وہ آئینہ خراب ہو جاتا اور میلا ہو جاتا ہے اور اس میں اُس کی شکل نظر نہیں آتی یا چہرہ خراب نظر آتا ہے تو وہ اسے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے اور جب میں یہ کہہ رہا ہوں تو رویا میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے اور ان الفاظ کے کہنے کے ساتھ ہی وہ میلا ہو جاتا ہے اور کام کا نہیں رہتا۔اور میں کہتا ہوں کہ انسان کا دل بھی اللہ تعالیٰ کے مقابل پر آئینہ کی طرح ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اُس میں اپنے حسن کا جلوہ دیکھتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے مگر جب وہ میلا ہو جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا حسن ظاہر نہیں ہوتا تو وہ اسے اس طرح اُٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے جس طرح خراب آئینہ کو اُٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔اور یہ کہتے ہوئے میں نے اُس آئینہ کو جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے اُٹھا کر پھینک دیا اور وہ چکنا چور ہو گیا۔اس کے ٹوٹنے سے آواز پیدا ہوئی۔اور میں نے کہا جس طرح خراب شدہ آئینہ کو توڑ دینے سے انسان کے دل میں کوئی درد پیدا نہیں ہوتا اسی طرح ایسے گندے دل کو توڑنے کی اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرتا۔غرض انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نور کو ظاہر کرے اور جب اس نور کے پھیلنے میں کوئی روک پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی جماعت کو کھڑا کر دیتا ہے جو صیقل کرنے