خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 664

خطبات محمود ۶۶۴ سال ۱۹۳۵ء احرار کی نیتیں سلسلہ کے متعلق جو کچھ ہیں وہ تو ظاہر ہی ہیں۔ان کا اگر بس چلے تو وہ بھی کبھی بھی شرارت اور فساد سے باز نہ رہیں۔اس لئے ان کے مقابلہ کے لئے جماعت جتنی بھی تیاری کرے وہ جائز اور درست ہے گو مؤمن کو خدا تعالیٰ نے اتنی عظیم الشان طاقت دی ہوتی ہے کہ اگر وہ اس سے صحیح طور پر کام لے تو اس کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔مگر اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے تیاری کی اور ضرورت ہوتی ہے اخلاص اور جاں نثاری کی۔ہم تعداد میں بے شک تھوڑے ہیں لیکن اگر ہم مل کر متحدہ طور پر کام کریں اور صحیح ذرائع سے کام لیں تو جو ایمانی قوت خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو دی ہے وہ اتنی زبردست ہے کہ اس سے وہ بہت بڑی بڑی جماعتوں کا آسانی سے مقابلہ کر سکتی اور ان کے شرور سے محفوظ رہ سکتی۔مؤمن ڈرتا نہیں لیکن وہ محتاط ضرور ہوتا ہے۔اور گو حکومت نے یہ احرار کو نوٹس دیا ہوا ہے کہ اسے قادیان اور اس کے ارد گرد آٹھ آٹھ میل کے حلقہ میں اجتماع کرنے کی اجازت نہیں مگر چونکہ اب مباہلہ کو احرار نے اجتماع کا بہانہ بنالیا ہے نہ وہ اپنے آدمیوں کی فہرست دیتے ہیں نہ شرائط طے کر کے ان پر دستخط کرتے ہیں۔اس لئے ان کے رویہ سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کا مقصد و مدعا یہ ہے کہ وہ قادیان آجائیں اور شرائط کی آڑ میں مباہلہ ٹال کر اپنی کا نفرنس شروع کر دیں۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ جب وہ شرائط سب کی سب ماننے کا دعوی کرتے ہیں تو ان شرائط کو ضبط تحریر میں لاکر ان پر دستخط نہیں کرتے۔جس بات کو ماننے کی انسان نیت کرے اس کے متعلق ایک کاغذ پر دستخط کرنے میں اسے کونسی تکلیف ہوتی ہے۔لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ ہم مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور دوسری طرف نہ شرائط طے کرتے ہیں اور نہ دعائے مباہلہ کے الفاظ کی تعین کرتے ہیں اور نہ دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ ہم نے شرائط سب مان لی ہیں۔لطیفہ یہ ہے کہ میں نے مباہلہ کے لئے ایک شرط یہ مقرر کی تھی کہ طرفین کی طرف سے پانچ سو یا ہزار آدمی شامل ہوں میری اس دعوت مباہلہ پر انہوں نے جھٹ یہ اعلان کر دیا کہ ہم نے ساری شرطیں مان لی ہیں مگر اب جبکہ میں نے دوبارہ لکھا ہے کہ اس مہم جواب کا کیا مطلب ہے ؟ آیا پانچ سو آدمی مباہلہ کے لئے لائے جائیں گے یا ایک ہزار ؟ تو اس کے جواب میں مسٹر مظہر علی صاحب لکھتے ہیں کہ پانچ سو یا ہزار آدمی لانے کی شرط مرزا صاحب نے اپنی طرف سے مقرر کی ہوئی ہے لیکن جب انہوں نے اس سے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ مجھے