خطبات محمود (جلد 16) — Page 665
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سب شرطیں منظور ہیں تو اُس وقت بھی تو وہ شرطیں میری طرف سے ہی تھیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے تو نہ تھیں پھر جب اُنہوں نے اُس وقت مان لیا تھا کہ سب شرائط منظور ہیں تو اب یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ یہ اپنے پاس سے شرط لگائی گئی ہے ہم اس کے پابند نہیں۔غرض اپنے متعلق تو اس طرح انکار کر دیا اور میرے متعلق لکھ دیا کہ آپ چاہے پانچ سو لا ئیں یا ہزار ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔غرض اس شرط کو نہ اپنے لئے رہنے دیا نہ ہمارے لئے۔پھر مانا کیا خاک۔میری طرف سے تو یہ شرط تھی کہ پانچ سو یا ہزار آدمی مباہلہ میں شریک ہو۔پھر جب ہمارے متعلق یہ کہہ دیا گیا کہ جتنے آدمی مرضی ہو لا ئیں، چاہے تھوڑے لائیں یا بہت اور اپنے متعلق لکھ دیا کہ یہ شرط خود مرزا صاحب نے لگائی ہے ہم اس کے پابند نہیں تو شرائط ماننے کا مطلب ہی کیا رہا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی غرض مباہلہ کرنا نہیں بلکہ مباہلہ کے بہانہ سے فتنہ و فساد ہے ورنہ بھلا شرائط کو تحریر میں لا کر ان پر دستخط کرنے میں کونسا حرج لازم آتا ہے کہ وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اگر شرائط تحریر میں آئی ہوئی ہوں تو انہیں کسی بھلے مانس کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے اور بتایا جا سکتا ہے کہ کس نے خلاف ورزی کی۔مگر ان کا تو یہ مقصد ہی نہیں کہ شرائط کی پابندی کرتے ہوئے مباہلہ کریں۔ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ یہاں آئیں اور جب شرائط کا تصفیہ نہ ہونے کی وجہ سے مباہلہ نہ ہو تو پھر شور مچادیں کہ ہم قادیان گئے مگر ہم سے مباہلہ نہ کیا گیا اور اس طرح اپنے اجتماع سے فائدہ اُٹھا کر قادیان میں کا نفرنس بھی منعقد کر لیں۔چنانچہ قادیان کے گردونواح میں ان کا کا ایک اشتہار تقسیم ہوتا پکڑا گیا ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ قادیان میں احرار کا نفرنس ہونے والی ہے۔یہ اشتہار ہم نے حکومت کو بھی بھجوادیا ہے اور ہمارے پاس بھی اس کی کا پیاں موجود ہیں۔پس چونکہ احرار کا نفرنس کرنا چاہتے ہیں نہ کہ مباہلہ جب تک وہ ہمیں یہ تحریر نہ دیں کہ قادیان میں صرف مباہلہ ہوگا اور کوئی مجلس ان ایام میں یا پہلے یا بعد میں منعقد نہ ہوگی ،اُس وقت تک ہم قادیان میں مباہلہ نہیں کریں گے بلکہ لاہور یا گورداسپور میں کریں گے۔وہاں جس قدر چاہیں کا نفرنسیں ساتھ کر لیں ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔مگر وہاں بھی انہی شرائط کے ماتحت مباہلہ ہو گا جنہیں میں نے پیش کیا ہے اور جنہیں وہ منظور کر چکے ہیں۔اگر وہ پانچ سو یا ہزار سے زیادہ آدمی اپنے ساتھ لانا چاہتے ہوں تو بے شک وہ گلیوں میں کھڑے رہیں ، چھتوں پر بیٹھے رہیں مگر میدانِ مباہلہ میں نہیں آئیں گے۔ہم اس امر کو نہیں بھلا سکتے کہ گورنمنٹ نے یہ دیکھتے ہوئے