خطبات محمود (جلد 16) — Page 663
خطبات محمود ۶۶۳ سال ۱۹۳۵ء ذَالِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوكَ وَلكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشَّقَّةُ وَ سَيَحْلِفُوْنَ بِاللَّهِ لَوِسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُوْنَ انْفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ اس کے بعد فرمایا:۔پیشتر اس کے کہ میں آج کے خطبہ کا مضمون شروع کروں میں اس بات کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ دو تین ماہ کے قریب ہوئے میں نے نیشنل لیگ کے ارکان کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے ممبروں کا با قاعدہ نظام قائم کریں۔انہیں تعداد میں بڑھائیں اور احمد یہ والنظیر کو ر بنا ئیں۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب نیشنل لیگ کے پانچ ہزار مبر ہو جائیں گے تو انہیں وسیع طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔اس تعداد کو پورا ہوئے اگر چہ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے مگر انہیں اپنے کام کو ترتیب وار کر نے اور نقشے وغیرہ بنانے میں دیر ہو گئی۔اب اس ہفتہ میں مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ نیشنل لیگ کے پونے چھ ہزار ممبر بن چکے ہیں اور ا بھی جماعت میں یہ تحریک جاری ہے۔اُنیس سو سے زیادہ والنٹیئرز بھی ہو چکے ہیں۔اس لئے میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اب نیشنل لیگ کو سلسلہ کے کاموں کے اُن حصوں کے متعلق جو سیاسیات سے تعلق رکھتے ہیں، کام کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔نیشنل لیگ نے پہلا کام یہ کیا ہے کہ چونکہ احرار نے میری طرف سے مباہلہ کی دعوت سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر اور یہ دیکھ کر کہ حکومت کی طرف سے تو انہیں قادیان اور اس کے ارد گرد آٹھ آٹھ میل تک کا نفرنس منعقد کرنے کی اجازت نہیں چاہا ہے کہ اب مباہلہ کے نام سے ہی قادیان میں اپنا اجتماع کریں۔اور مباہلہ کو ادھر اُدھر کی باتوں میں ٹال کر قادیان میں اپنی کا نفرنس منعقد کریں اور اس طرح انہوں نے گورنمنٹ کو اور ہم کو دھوکا دینے کو کوشش کی ہے۔نیشنل لیگ کی طرف سے تمام جماعتوں کو اطلاع بھجوائی گئی ہے کہ اگر کسی وقت احرار کی طرف سے قادیان میں کا نفرنس یا اجتماع ہو تو اُس وقت جماعت کے ہر فرد کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کے وقار کے تحفظ اور شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے قادیان پہنچ جائے۔میرے نزدیک انہیں یہ بھی چاہئے کہ وہ اس عرصہ میں اپنے والنٹیئروں کو کام کرنے کی ترکیب سکھائیں اور انہیں ایک نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادت ڈالیں جس عادت کا پیدا کرنا جماعت کے ہر فرد میں نہایت ضروری ہے۔