خطبات محمود (جلد 16) — Page 646
خطبات محمود ۶۴۶ سال ۱۹۳۵ء اہمیت کو نہیں سمجھتا۔یہ چیزیں ہیں جو بڑوں میں بھی ہونی چاہئیں اور نو جوانوں میں بھی۔بڑے اگر خود ان پر عمل نہیں کر سکتے تو نو جوانوں کو سکھانے کے لئے اپنی زبان پلا سکتے ہیں۔جیسے گنکا ہے جب گت کا کا ماہر بوڑھا ہو جائے تو گو وہ خود گت کا نہیں کھیل سکتا مگر دوسروں کو کھیلنا سکھا سکتا ہے۔یا ایک شخص جو بندوق کا اچھا نشانہ لگا نا جانتا ہو اگر اس کے ہاتھ میں رعشہ ہو جائے تو گو وہ خود بندوق کا نشانہ ٹھیک نہیں لگا سکے گا مگر اچھا نشانہ لگانے والے پیدا ضرور کر سکے گا۔اسی طرح قوم پر ایک ایسا وقت آیا کرتا ہے جبکہ اس کے بڑے جو فن کے ماہر ہوں بوڑھے ہو جاتے ہیں اور کام نہیں کر سکتے۔ایسی حالت میں وہ آئندہ نسلوں کی تربیت کر سکتے اور انہیں اپنا بہتر قائم مقام بنا سکتے ہیں۔آج سے پچاس سال پہلے کی تعلیم نہایت ادنی تھی مگر آج نہایت اعلی تعلیم ہے۔یہ اعلیٰ تعلیم کس نے بنائی ؟ اسی ادنی تعلیم نے بنائی ہے کیونکہ جو پہلے لوگ تھے انہوں نے اپنے شاگردوں کو ایسے اعلیٰ مشورے دیئے کہ وہ ان سے اعلیٰ قابلیت کے مالک ہوئے۔انہوں نے آگے اپنے شاگردوں کو ایسی قابلیت سے پڑھایا کہ وہ ان سے بھی اعلیٰ قابلیت کے مالک ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ اب اُستاد ادنی اور شاگر د اعلیٰ۔اگر قانونِ قدرت یہ ہوتا کہ جتنی قابلیت کا اُستاد ہو اتنی قابلیت کا شاگرد ہوگا تو دنیا کبھی بھی ترقی نہ کرتی۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا ترقی کر رہی ہے۔اُستاد میں نقص ہوتا ہے مگر وہ اپنے شاگردوں کو ہوشیار کرتا ہے کہ دیکھنا تم میں نقص نہ آئے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفتہ امسح الاول ایک دفعہ کوئی بات کہ رہے تھے کہ دورانِ گفتگو آپ کی زبان سے ایک سخت لفظ گالی کی قسم کا نکل گیا۔معاً اُسی وقت آپ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا میاں ! ہمیں ایسے اُستاد میسر نہیں آئے جیسے تمہیں ملے ہیں۔ہمارے زمانہ میں گالیاں عام تھیں اس لئے کوئی کوئی سخت لفظ ہماری زبان پر اُس وقت کا چڑھا ہوا ہے دیکھنا! تم ایسا لفظ کبھی زبان سے نہ نکالنا تو آئندہ نسلیں اعلیٰ بنائی جا سکتی ہیں اگر توجہ دی جائے ، آئندہ نسلیں اعلیٰ بنائی جاسکتی ہیں اگر ان کے سامنے بہترین نمونہ پیش کیا جائے۔ہم اگر منہ سے کہیں کہ ساری دنیا کو فتح کریں گے، ہم اگر منہ سے کہیں کہ ہم نئی زمین اور نیا آسمان بنا ئیں گے، ہم اگر منہ سے کہیں کہ ہم شیطانی جال کو کاٹ کر رکھدیں گے لیکن ہم اعلی نسل نہ تیار کریں ایسی نسل جو اپنی جانوں کو خدا کے لئے قربان کرنے والی ہو ، ایسی نسل جو اپنے اوقات کو خدا کے لئے قربان کرنے والی ہو ، ایسی نسل جو اپنے اندر عقل رکھتی اور عقل سے کام