خطبات محمود (جلد 16) — Page 647
خطبات محمود ۶۴۷ سال ۱۹۳۵ء لینے کی عادی ہو، ایسی نسل جو اپنی زندگی کا مقصد وحید وہی قرار دیتی ہو جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں مبعوث ہوئے تو ایسے دعوے کا فائدہ کیا اور لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔پس ضرورت ہے کہ آئندہ نسلوں کی تربیت کی جائے، انہیں قرآن کریم پڑھایا جائے ، ان میں سلسلہ کے لئے قربانی کی روح پیدا کی جائے اور دیکھا جائے کہ وہ سلسلہ کے لئے کتنا وقت خرچ کرتے اور کتنی عقل سے کام لیتے ہیں۔دنیا میں جس طرح اور چیزیں بڑھائی جا سکتی ہیں اسی طرح عقل بھی بڑھائی جاسکتی ہے مگر ضرورت تربیت کی ہوتی ہے۔اس لئے جماعت اگر ان ذمہ واریوں کو پورا کرنا چاہتی ہے جنہیں میں نے بیان کیا ہے اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے سپرد کی گئی ہیں، اگر وہ دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس امر میں مجھ سے تعاون کرے کہ آئندہ نسلوں کی اصلاح کی جائے۔اگر وہ اس امر پر تیار ہوں اور اس کے لئے عملی جد و جہد کریں تو یہ اتنی بھی مشکل چیز نہیں جتنی کوئی چیز ادھر سے اُدھر کر نی مشکل ہوتی ہے لیکن اگر وہ ادھر توجہ نہ کریں تو پھر یہ بہت بڑی مشکل ہے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق دے اور ایسی نسل تیار کرنے کی ہمت بخشے جو اُس کی رضا کی راہوں پر چلنے والی اور صدق ، محنت ، عقل، اور استقلال سے کام لینے والی ہو۔اگر ہماری آئندہ نسل قربانی ، ایثار، عقل ، ہمت اور باقی تمام ضروری ہتھیاروں سے مسلح ہو جائے تو دشمنوں پر فتح پانا ان کے لئے کوئی مشکل نہ ہو گا۔الحجر: ١٠ الفضل ۳۱ / اکتوبر ۱۹۳۵ء) بخاری کتاب فضائل أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذَا خَلِيلًا بخاری کتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحى (الخ) بخاری كتاب التفسير - تفسير سورة اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ الفرقان : ۵۳ طه: ۱۱۵