خطبات محمود (جلد 16) — Page 645
خطبات محمود ۶۴۵ سال ۱۹۳۵ء اگر اس کام کے لئے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ اور جاگنے کی ضرورت تھی اور وہ نہیں جا گا تو اس نے غلطی کی اور وہ خدا کے حضور بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے۔ایک دفعہ ایک بند میں جو سمندر کے آگے لگایا گیا تھا چھوٹا سا سوراخ ہو گیا۔یہ ہالینڈ کا واقعہ ہے وہاں سمندر سے زمین نیچی ہے اور لوگ سمندروں کے آگے حفاظت کے لئے بند لگا دیا کرتے ہیں۔جب اس بند میں سوراخ ہو ا تو اُس وقت اتفاقاً ایک چھوٹا سا بچہ وہاں کھیل رہا تھا۔اُس نے خیال کیا کہ اگر میں اس وقت گاؤں والوں کو اطلاع دینے کے لئے چلا گیا تو یہ سوراخ بہت بڑھ جائے گا اور سیلاب گاؤں کو بہالے جائے گا اس لئے وہ وہیں بیٹھ گیا اور اُس نے اپنی انگلی سوراخ میں ڈال دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ سوراخ بند ہو گیا اور پانی نکلنا رک گیا لیکن پھر بھی سمندر کا پانی زوروں پر تھا آہستہ آہستہ اُس سوراخ نے پھیلنا شروع کیا۔جب سوراخ ذرا بڑا ہو گیا تو اُس نے اپنی دوسری اُنگلی بھی اندر ڈال دی۔پھر سوراخ زیادہ ہوا تو تیسری اُنگلی ڈال دی۔اور جب آہستہ آہستہ سوراخ اور بڑا ہو گیا تو اُس نے اپنا ہاتھ اُس میں ڈال دیا اور سارا دن وہیں بیٹھا رہا۔پھر شام ہوگئی مگر وہ وہاں سے ہلا نہیں۔نصف شب کے قریب والدین کو خیال آیا کہ ہمارا بچہ کہاں گیا ؟ اِدھر اُدھر سے پتہ لگاتے انہیں معلوم ہوا کہ صبح سمندر کی طرف گیا تھا۔خیال آیا کہ کہیں ڈوب نہ گیا ہو اسی فکر میں جب بند کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ نے اپنا ہاتھ سوراخ میں ڈالا ہوا ہے اور خود بے ہوش پڑا ہے۔اب دیکھ لو اس بچہ نے عقل سے کام لیا اور کام پر اتنا وقت صرف کیا جتنی ضرورت تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا گاؤں بچ گیا۔ہندوستان کے بڑے بڑے آدمی بھی اگر وہاں ہوتے تو دو گھنٹہ کے بعد آ جاتے اور کہتے کہ جب اور کوئی نہ آیا تو میں بھی چلا آیا۔حالانکہ کام میں یہ سوال نہیں ہوتا کہ کتنے گھنٹے خرچ ہوئے بلکہ اگر اسلام اور سلسلہ اور قومی ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہو کہ کوئی شخص ایک جگہ بیٹھا ر ہے اور بیٹھا رہے یہاں تک کہ مرجائے تو اسکا فرض ہے کہ وہ وہاں بیٹھا رہے اور مر جائے۔غرض ضرورت اس بات کی ہے کہ محنت سے کام کیا جائے عقل سے کام لیا جائے اور ایسی تدابیر سے کام لیا جائے جو کام کو کامیاب بنانے والی ہوں۔اور ہر انسان یہ سمجھے کہ نہ صرف اُس نے کام کرنا ہے بلکہ کام کو کامیاب بنانا بھی ہے پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ انجام میرے اختیار میں نہیں وہ کام کی