خطبات محمود (جلد 16) — Page 634
خطبات محمود ۶۳۴ سال ۱۹۳۵ء۔اسی لئے قرآن مجید کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ لے ہم ہی نے یہ قرآن کریم نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے اس حفاظت سے صرف ظاہری حفاظت مراد نہیں بلکہ باطنی حفاظت بھی مراد ہے یعنی ایسے لوگ دنیا میں پیدا ہوتے رہیں گے جو قرآن کریم کے مطالب کو سمجھیں گے اور انہیں لوگوں تک پہنچانے کی قدرت رکھیں گے۔تو قرآن کریم کا خالی موجود ہونا کافی نہیں جب تک اس کے سمجھنے والے موجود نہ ہوں۔پھر قرآن کریم کی موجودگی اور اس کے مطالب کو سمجھنے والوں کی موجودگی کے بعد ایک اور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سمجھانے والے کا وجود ہے۔دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دل میں ایک بات کو خوب سمجھتے ہیں مگر اسے دوسروں تک پہنچا نہیں سکتے اور انہیں وہ طریق معلوم نہیں ہوتے جن سے وہ جلدی اور اعلیٰ طور پر تعلیم دے سکیں ایسا انسان بھی دراصل مفید نہیں ہوتا۔میرے ایک اُستاد ہیں اپنی ذات میں وہ اچھا علم رکھتے ہیں مگر چونکہ ان کے بولنے میں نقص ہے ، اس لئے وہ بات کو پورے طور پر سمجھا نہیں سکتے۔طالب علمی کے زمانہ میں ایک دفعہ مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں فلسفہ پڑھوں۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ آپ سے میں فلسفہ پڑھنا چاہتا ہوں انہوں نے پڑھا نا منظور کر لیا۔جب وہ مجھے فلسفہ پڑھانے کے لئے آئے تو دو تین دن ان سے سبق لینے کے بعد میں نے کہا اب میں کتاب پڑھنا بند کرتا ہوں۔وہ کہنے لگے کیوں؟ میں نے کہا پہلے تو فلسفہ کے متعلق میرے ذہن میں کوئی مفہوم تھا مگر دو تین سبقوں کے بعد وہ بھی جاتا رہا ہے اور اب میرے ذہن میں کچھ بھی نہیں رہا۔دراصل چونکہ انہیں اپنے مافی الضمیر کے بیان پر قدرت نہیں تھی اس لئے وہ صحیح طور پر سمجھا نہیں سکتے تھے۔فلسفہ کی بنیاد آگے ہی وہم پر ہوتی ہے ایک وہمی مضمون کو اگر وہمی الفاظ میں بیان کر دیا جائے تو کوئی کیا سمجھ سکتا ہے اسی ضمن میں مجھے ایک اور بات بھی یاد آ گئی۔پانچ سات سال کی بات ہے ہماری جماعت کے ایک دوست کو بخار چڑھا ہوا تھا میں اُن کی عیادت کے لئے گیا۔جب میں وہاں پہنچا تو اتفاقاً وہاں ایک اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے جنہیں علم موسیقی میں مہارت کا دعوی تھا اور وہ احمدیت سے پہلے اس علم کے اچھے ماہر سمجھے جاتے تھے۔اس علم سے در حقیقت مجھے کوئی مناسبت نہیں یوں تو مجھے ہر علم کا شوق ہے اور کئی علوم جن سے بچپن میں مجھے نفرت ہوا کرتی تھی ، اب مطالعہ کرتے کرتے ان سے