خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 635

خطبات محمود ۶۳۵ سال ۱۹۳۵ء مؤانست پیدا ہوگئی ہے لیکن اس علم سے مجھے کوئی لگاؤ نہیں۔لیکن چونکہ وہ اتفاقاً اُس وقت وہاں بیٹھے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ موسیقی کیا ھے ہوتی ہے؟ اور میں نے ان سے موسیقی کے اوزان کے متعلق دریافت کیا اور میں نے کہا کہ گو میں نے اس علم پر کوئی کتاب نہیں پڑھی مگر ذہن میں اس کا کچھ اندازہ کیا ہے۔میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ اندازہ درست ہے اس لئے آپ مجھے جو پکا راگ ا کہلاتا ہے اس کی حقیقت سمجھا ئیں۔انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی لیکن میں نہ سمجھا شائد اس لئے کہ میرے دماغ کو اس علم سے کوئی مؤانست نہ تھی یا شاید اس کے بیان کی کمزوری کی وجہ سے۔بہر حال جب وہ اپنی طرف سے سمجھا چکے تو میں نے کہا پہلے تو مجھے کچھ موسیقی کا اندازہ تھا کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے مگر اب بجائے زیادہ علم حاصل ہونے کے پہلا علم بھی جاتارہا ہے۔تو صحیح طور پر بات نہ بیان کر سکنے والا خواہ خود چاہتا ہو کہ میں دوسرے کو اپنی باتیں سمجھاؤں دوسرے کو سمجھا نہیں سکتا بلکہ اس کے خیالات کو پراگندہ کرتا اور اس کے اوقات کو ضائع کرتا ہے۔کالج کے تعلیم یافتہ یا فارغ التحصیل طلباء سے جب کسی علم مثلاً فلسفہ وغیرہ کے متعلق باتیں کی جائیں تو پراگندہ خیالات کے سوا کوئی بات ان کے ذہن میں ٹکی ہوئی معلوم نہیں ہوتی۔اور یہ نقص اسی وجہ سے واقعہ ہوتا ہے کہ پڑھانے والے اپنی بات کو سمجھا نہیں سکتے۔مجھے جب بھی کالج کے طالب علموں سے گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے ، میں نے نتیجہ نکالا ہے کہ وہ خود کسی بات کو نہیں سمجھتے۔صرف انہوں نے اصطلاحات رٹی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں فلاں اصطلاحات کو رٹ لینے کے بعد علم پر حاوی ہو جائیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں علوم تو ہیں مگر ان سے فائدہ کوئی نہیں اُٹھا سکتا۔وہی علوم غیر ملکوں میں ہیں۔وہی فلسفہ اور وہی حساب ہے جو ہمارے ملک میں پڑھایا جاتا ہے مگر وہ اسی فلسفہ اور حساب کے نتیجہ میں کئی جدید علوم نکالتے رہتے ہیں۔اسی حساب کے ذریعہ سائنس کو مدد ملی ہے۔اور اسی فلسفہ کے ذریعہ علم ہلیت کو مددملی ہے۔پہلے فلسفیانہ اصول قائم کئے جاتے ہیں اور پھر سائنس سے ان کی صداقت کا امتحان کیا جاتا ہے۔گویا پہلے عقل سے جو تھیوری قائم کی جاتی ہے۔اسے بعد میں تجربات ومشاہدات کی رو سے پر کھا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک کے طالب علم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔جس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے پروفیسر پڑھانے کے اصول سے ناواقف ہوتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم الفاظ تو رٹ لیتے ہیں مگر حقیقت سے بالکل ناواقف رہتے ہیں۔