خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 633

خطبات محمود ۶۳۳ سال ۱۹۳۵ء تعالیٰ نے ہر چیز کے حصول کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ مقرر کیا ہوا ہے جب تک وہ نہ ملے کام نہیں ہوسکتا۔یہ جو میں نے آخری مثال دی ہے اسی قسم کا کام اس وقت ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ہمارے ذمہ یہ ڈالا گیا ہے کہ ہم تمام دنیا کو خدا تعالیٰ کی باتیں سکھائیں اور وہ پیشگوئی جو رسول کریم ﷺ کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمائی تھی کہ اس کے ذریعہ اسلام ادیان باطلہ پر غالب کر دیا جائے گا ہمیں یقین ہے کہ وہ آپ کے ایک مثیل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پوری ہونے والی ہے۔اب یہ جماعت کا کام ہے کہ وہ ساری دنیا کو اسلام سے واقف و آگاہ کرے اور اسے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے۔پس ہمارے لئے بھی ضرورت ہے ایک کتاب کی اور ضرورت ہے ایسے انسانوں کی جو معلم ہو سکیں۔کتاب لفظی طور پر ہمارے لئے موجود ہے اور وہ ایسی کتاب ہے جس میں کبھی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا یعنی قرآن مجید۔یہی قرآن مجید رسول کریم ہے صلى الله کے زمانہ میں ہدایت کا ذریعہ بنا ، یہی قرآن مجید آپ کے بعد کام آیا ، یہی قرآن مجید اب کام آ رہا ہے اور یہی قرآن مجید قیامت تک کام آئے گا۔مگر کتاب بھی مفید نہیں ہو سکتی جب تک اُس کتاب کے سمجھنے والے دنیا میں موجود نہ ہوں۔اور کتاب کے سمجھنے والوں کا وجود بھی اُس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک کتاب کو سمجھانے والے موجود نہ ہوں۔بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو گو علم رکھتے اور باتوں کو خوب سمجھتے ہیں مگر وہ دوسروں تک علم کو پہنچا نہیں سکتے۔یہ ظاہر ہے کہ ایسے علوم بھی مٹ جاتے ہیں جو کتابوں میں تو موجود ہوتے ہیں مگر ان کے سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ویدوں کو دیکھ لو، ہزاروں سال سے وہ اسی طرح چلے آ رہے ہیں جس طرح آخری تبدیلی کے بعد انکی شکل ہو چکی تھی مگر بعد میں چونکہ قوم کو ان سے دلچسپی نہ رہی اس لئے باوجود اس کے کہ سینکڑوں ہزاروں نسخے وید کے ہندوستان میں موجود ہیں ، ویدوں کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔پھر ویدوں کا کیا فائدہ ؟ پس چیز موجود ہے خواہ وہ صحیح ہے یا غلط محفوظ ہے یا غیر محفوظ محرف ہے یا غیر محرف مگر وہ قوم جو اسے اپنارا ہنما سمجھتی ہے باوجود اسے راہنما سمجھنے کے اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی اس لئے کہ اس کی زبان کے سمجھنے والے دنیا میں موجود نہیں۔بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو ویدوں کی زبان سے واقف ہیں مگر چونکہ اب دنیا کے دماغ ترقی کر چکے ہیں اس لئے انہیں ویدوں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی اور وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔غرض خالی کتاب کا موجود ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ کتاب کے سمجھنے والوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے