خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 552

خطبات محمود ۵۵۲ سال ۱۹۳۵ء سے مباہلہ کر لیں۔ہم کہیں گے کہ اے خدا! مکہ اور مدینہ کی عظمت ہمارے دلوں میں قادیان سے بھی زیادہ ہے ہم ان مقامات کو مقدس سمجھتے اور ان کی حفاظت کے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اے خدا ! اگر ہم دل سے یہ نہ کہتے ہوں بلکہ جھوٹ اور منافقت سے کام لے کر کہتے ہوں اور ہمارا اصل عقیدہ یہ ہو کہ مکہ اور مدینہ کی کوئی عزت نہیں یا قادیان سے کم ہے تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔اس کے مقابلہ میں احرار اٹھیں اور وہ یہ قسم کھا کر کہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ احمدی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دشمن ہیں اور ان مقامات کا گرنا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جانا احمدیوں کو پسند ہے پس اے خدا ! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے اور احمدی مکہ و مدینہ کی عزت کرنے والے ہیں تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔وہ اس طریق فیصلہ کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ خدا اس معاملہ میں اپنی قدرت کا کیا ہاتھ دکھاتا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں تو یاد رکھیں جھوٹ اور افترا دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کر سکتا۔وہ مت خیال کریں کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ ہیں اور اس اعتراض میں کروڑوں مسلمان اُنکے ہمنوا ہیں۔خدا تعالیٰ نے انہیں تھوڑے ہی دنوں میں دکھا دیا ہے۔ابھی چند ہفتے ہوئے میں نے اسی ممبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکلی جارہی ہے اور میں ان کی شکست ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔اب دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ زمین ان کے پاؤں سے نکل گئی۔پس وہ کروڑوں نہیں اور مسلمان ہرگز ان کے ساتھ شریک نہیں۔بے شک مسلمانوں میں چور اور ڈا کو بھی ہیں لیکن عام حالت ان کی یہ ہے کہ جس وقت خدا تعالیٰ کا نام ان کے سامنے لیا جاتا ہے ان کے دل خدا تعالیٰ کے خوف سے کانپ اُٹھتے ہیں پس میں نہیں سمجھتا کہ آٹھ کروڑ چھوڑ ایک کروڑ مسلمان بھی اس اعتراض میں احرار کے ہمنوا ہوں۔یقیناً وہ ان سے جُدا ہیں مگر جو بھی ان کے ساتھ شامل ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ اس جھوٹ سے کوئی فائدہ نہیں ایک خدا ہے جو آسمان پر موجود ہے اور جو جھوٹوں پر اپنی لعنت ڈال کر انہیں تباہ و برباد کیا کرتا ہے۔اگر وہ اپنے اس جھوٹے اور نا پاک پراپیگنڈا سے باز نہیں آئیں گے، اور اگر وہ الزام تراشی اور کذب بیانی کو نہیں چھوڑیں گے تو خدا انہیں اور زیادہ ذلیل اور رسوا کرے گا اور انہیں اور زیادہ اپنی لعنت کا نشانہ بنادے گا۔وہ ہماری طرف جو بھی جھوٹ منسوب کر رہے ہیں اور کریں گے خدا اس جھوٹ کو اُن کے سروں پر ڈالے گا اور وہ آئندہ زمانہ میں اس سے بھی