خطبات محمود (جلد 16) — Page 551
خطبات محمود ۵۵۱ سال ۱۹۳۵ء اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو پڑھ کر میرے دل کو سخت رنج پہنچا حالانکہ انگریزوں سے ہمارا تعاون ہے اور ہم اس کا ذکر کرنے سے کبھی ڈرے نہیں سوائے حکومت پنجاب کے کہ اس نے دو تین سال سے خود ہمارے تعاون کو ٹھکرا دیا ہے باقی انگریزی حکومت سے ہم نے ہمیشہ تعاون کیا اور ہمیشہ تعاون کرتے رہیں گے جب تک وہ خود حکومت پنجاب کی طرح ہمیں دھتکار نہ دے مگر باوجود اس کے کہ میں انگریزی حکومت کے ڈھانچہ کو دنیا کے لئے مفید ترین طرز حکومت سمجھتا ہوں جس میں اصلاح کی گنجائش ضرور ہے مگر وہ توڑنے کے قابل شے نہیں ہے پھر بھی انگریز ہوں یا کوئی اور حکومت ،عرب کے معاملہ میں ہم کسی کا لحاظ نہیں کر سکتے۔اس معاہدہ میں ایسی احتیاطیں کی جاسکتی تھیں کہ جن کے بعد عرب کیلئے کسی قسم کا خطرہ باقی نہ رہتا مگر بوجہ اس کے کہ سلطان ابن سعود یورپین اصطلاحات اور بَيْنَ الاقوامی معاملات سے پوری واقفیت نہیں رکھتے انہوں نے الفاظ میں احتیاط سے کام نہیں لیا اور اس میں انہوں نے عام مسلمانوں کا طریق اختیار کیا ہے۔مسلمان ہمیشہ دوسرے پر اعتبار کرنے کا عادی ہے حالانکہ معاہدات میں کبھی اعتبار سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ سوچ سمجھ کر اور کامل غور وفکر کے بعد الفاظ تجویز کرنے چاہئیں۔گو میں سمجھتا ہوں یہ معاہدہ بعض انگریزی فرموں سے ہے حکومت سے نہیں اور ممکن ہے جس فرم نے یہ معاہدہ کیا ہے اُس کے دل میں بھی دھوکا بازی یا غداری کا کوئی خیال نہ ہومگر الفاظ ایسے ہیں کہ اگر اس فرم کی کسی وقت نیت بدل جائے تو وہ سلطان ابن سعود کومشکلات میں ڈال سکتی ہے۔مگر یہ سمجھنے کے باوجود ہم نے اس پر شور مچانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ ہم نے خیال کیا کہ اب سلطان کو بد نام کرنے سے کیا فائدہ۔اس سے سلطان ابن سعود کی طاقت کمزور ہوگی اور جب ان کی طاقت کمزور ہو گی تو عرب کی طاقت بھی کمزور ہو جائے گی۔اب ہمارا کام یہ ہے کہ دعاؤں کے ذریعہ سے سلطان کی مدد کریں اور اسلامی رائے کو ایسا منظم کریں کہ کوئی طاقت سلطان کی کمزوری سے فائدہ اُٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔پس خانہ کعبہ ، مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے متعلق جو ہمارے جذبات ہیں ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نسبت بہت زیادہ سخت ہیں اور اگر اس میں کسی کو شبہ ہو تو میں اس کے لئے بھی وہی تجویز پیش کرتا ہوں جو پہلے امر کے متعلق پیش کر چکا ہوں کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے آئیں اور ہم