خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 550

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء شریف حسین حاکم ہوا تو لوگوں نے ان کی سخت مخالفت کی مگر ہم نے کہا اب فتنہ فساد پھیلا نا مناسب نہیں۔جس شخص کو خدا تعالیٰ نے حاکم بنادیا ہے اُس کی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے تا کہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہو جائے۔اس کے بعد نجدیوں نے حکومت لے لی تو با وجود اس کے کہ لوگوں نے بہت شور مچایا کہ انہوں نے قبے گرا دئیے اور شعائر کی ہتک کی ہے اور باوجود اس کے کہ سب سے بڑے دشمن اہل حدیث ہی ہیں ہم نے سلطان ابن سعود کی تائید کی۔صرف اس لئے کہ مکہ مکرمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں حالانکہ وہاں ہمارے آدمیوں کو دُکھ دیا گیا ، حج کے کے لئے احمدی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا مگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بلند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے ان علاقوں میں فساد ہوں۔مجھے یاد ہے مولانامحمد علی صاحب جب مکہ مکرمہ کی مؤتمر سے واپس آئے تو وہ ابن سعود سے سخت نالاں تھے۔شملہ میں ایک دعوت کے موقع پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر بحث جاری رکھی۔وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا کہ مولا نا آپ کتنے ہی ان کے ظلم بیان کریں جب ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنا دیا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ ہماری کوششیں اب اس امر پر صرف ہونی چاہئیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہوا اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہو جائے تا کہ ان مقدس مقامات کے امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ابھی ایک عہد نامہ ایک انگریز کمپنی اور ابن سعود کے درمیان ہوا ہے۔سلطان ابن سعود ایک سمجھدار بادشاہ ہیں مگر بوجہ اس کے کہ وہ یورپین تاریخ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے وہ یورپین اصطلاحات کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔ایک دفعہ پہلے جب وہ اٹلی سے معاہدہ کرنے لگے تو ایک شخص کو جو ان کے ملنے والوں میں سے تھے میں نے کہا تم سے اگر ہو سکے تو میری طرف سے سلطان ابن سعود کو یہ پیغام پہنچا دینا کہ معاہدہ کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لیں۔یورپین قوموں کی عادت ہے کہ وہ الفاظ نہایت نرم اختیار کرتی ہیں مگر ان کے مطالب نہایت سخت ہوتے ہیں۔اب وہ معاہدہ جو انگریزوں سے ہو ا شائع ہوا ہے اور اس کے خلاف بعض ہندوستانی اخبارات مضامین لکھ رہے ہیں۔میں نے وہ معاہدہ پڑھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بعض غلطیاں ہو گئی ہیں اور اس معاہدہ کی شرائط کی رو سے بعض موقعوں پر بعض بیرونی حکومتیں یقیناً عرب میں دخل دے سکتی ہیں۔