خطبات محمود (جلد 16) — Page 549
خطبات محمود ۵۴۹ سال ۱۹۳۵ء حفاظت کر رہی ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خدا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کر رہا ہے کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ہاں ظاہری طور پر ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اُس وقت انسانی ہاتھ کو بھی حفاظت کے لئے بڑھایا جائے لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقع آئے تو اُس وقت دنیا کو معلوم ہو جائیگا کہ حفاظت کے متعلق جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کے ماتحت جماعت احمدیہ کس طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں، ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا ، خدا اُس شخص کو اندھا کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہاتھ اس بد میں آنکھ کو پھوڑنے کے لئے آگے بڑھیں گے، ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سے آگے ہوگا۔آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کہ انگریز بعض عرب رؤسا کو مالی مدد دے کر انہیں اپنے زیر اثر لانا چاہتے ہیں۔یہ شور جب زیادہ بلند ہوا تو حکومت ہند کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم عرب رؤسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔مسلمان اس پر خوش ہو گئے کہ چلو خبر کی تردید ہو گئی لیکن میں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض عرب رؤسا کو مالی مدد نہیں دیتی مگر حکومت برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو ملا کرتے تھے اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے لارڈ چیمسفورڈ کولکھا کہ گو لفظی طور پر آپ کا اعلان صحیح ہے مگرحقیقی طور پر صحیح نہیں۔کیونکہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ابن سعود اور شریف حسین کو اس اس قدر مالی مددملتی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کر سکتے۔ان کا جواب میں مجھے خط آیا ( وہ بہت ہی شریف طبیعت رکھتے تھے ) کہ یہ واقعہ صحیح ہے مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلایا جائے ہاں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیر اثر لائے۔پس ہم ہمیشہ عرب کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے۔جب ترک عرب پر حاکم تھے تو اُس وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا۔جب