خطبات محمود (جلد 16) — Page 548
خطبات محمود ۵۴۸ سال ۱۹۳۵ء پر قائم رہنا چاہئے لوگوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے۔اور فرمایا کہ رومی سلطنت ایسے ہی لوگوں کی شامت اعمال سے خطرہ میں ہے کیونکہ وہ لوگ جو سلطنت کی اہم خدمات پر مامور ہیں اپنی خدمات کو دیانت سے ادا نہیں کرتے اور سلطنت کے بچے خیر خواہ نہیں بلکہ اپنی طرح طرح کی خیانتوں سے اس اسلامی سلطنت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ سلطان روم کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھا گے ہیں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ نصیحتیں کیں تو اُس سفیر کو بہت بُری لگیں کیونکہ وہ اس خیال کے ماتحت آیا تھا کہ میں سفیر ہوں اور یہ لوگ میرے ہاتھ چومیں گے اور میری کسی بات کا انکار نہیں کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اُس سے یہ کڑوی کڑوی باتیں کیں کہ تم حکومت سے بڑی بڑی تنخواہیں وصول کر کے اس کی غداری کرتے ہو، تمہیں تقویٰ و طہارت سے کام لیکر اسلامی حکومت کو مضبوط کرنا چاہئے تو وہ یہاں سے بڑے غصہ میں گیا اور اُس نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ اسلامی حکومت کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ترکی حکومت میں بعض کچے دھا گے ہیں۔مسلمان عام طور پر دین سے محبت رکھتے ہیں مگر افسوس کہ مولوی انہیں کسی بات پر صحیح طور سے غور کرنے نہیں دیتے۔یہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ عوام الناس اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھتے اور سچائی سے پیار کرتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ مولوی انہیں کسی بات پر غور کرنے نہیں دیتے اور جھٹ اشتعال دلا دیتے ہیں۔اس موقع پر بھی مولویوں نے عام شور مچادیا کہ ترکی حکومت جو محافظ حرمین شریفین ہے اس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہتک کی ہے۔جب یہ شور بلند ہو ا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں لکھا تم تو یہ کہتے ہو کہ ترکی حکومت مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرتی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ترکی حکومت چیز ہی کیا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرے، مکہ اور مدینہ تو خود تر کی حکومت کی حفاظت کر رہے ہیں۔جس شخص کے دل میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے متعلق اتنی غیرت ہو ، اُس کے ماننے والوں کے متعلق کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بج جائے تو وہ خوش ہوں۔ہم تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ تسلیم کیا جائے کہ حقیقی طور پر مکہ اور مدینہ کی کوئی حکومت