خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۳۵ء حوالہ نقل کرے تو اسے سزا دینا اور دوسری قوم وہی کام کرے تو اسے کچھ نہ کہنا ہرگز انصاف نہیں کہلا سکتا۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہماری صدر انجمن کے افسروں نے گورنمنٹ کو ایک پمفلٹ کے متعلق جو ہمارے خلاف شائع ہوا تھا۔چٹھی لکھی اور اسے توجہ دلائی تو گورنمنٹ نے لکھا ہم نے اس ٹریکٹ کو ضبط کر لیا ہے مگر احمد یوں کو بھی چاہئے کہ وہ اشتعال انگیز تحریریں شائع نہ کیا کریں۔یہ جواب پہنچنے پر ایک ناظر نے حکومت کو لکھا کہ ہم حکومت کے ممنون ہوں گے اگر وہ بتائے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے کونسی اشتعال انگیز تحریریں شائع کی گئی ہیں اور اگر حکومت ثابت کر دے تو ہم خود اس احمدی کو سزا دینے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ سکھوں کے خلاف ایک احمدی نے ایک کتاب لکھی تھی جس کے بعض حصے ایسے تھے جو سکھوں کے لئے اشتعال انگیز تھے اسے ہمارے خلیفہ اسیح نے ضبط کر لیا اور پنجاب کونسل میں خود حکومت کی طرف سے اس رواداری کی تعریف کی گئی۔پس ہم نے کبھی پسند نہیں کیا کہ لوگوں میں منافرت پھیلانے والی تحریر میں شائع کی جائیں اس لئے گورنمنٹ نے جو یہ لکھا ہے کہ احمدی بھی اشتعال انگیز تحریریں شائع نہ کیا کریں وہ بتائے کہ کس احمدی نے اشتعال انگیز تحریرلکھی مگر با وجود اس کے کہ دودفعہ حکومت کے سامنے یہ بات دُہرائی گئی حکومت نے کوئی جواب اب تک نہیں دیا۔ہاں ایک دفعہ زبانی اس طرف توجہ دلائی گئی تو ایک ذمہ دار افسر نے کہا کہ اس طرح بار بار حکومت کو مخاطب کرنا خواہ مخواہ دق کرنے کے مترادف ہے۔ہم اب بھی کہتے ہیں کہ اصولاً ہم کسی کا دل دُکھانے کو جائز نہیں سمجھتے مگر ہمارا حق ہے کہ ہم یہ مطالبہ کریں کہ قانون ہر قوم کے لئے ایک ہی ہونا چاہئے۔اگر حکومت سب کو ایسی تحریرات سے رو کے تو ہم اس حد تک حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ہماری جماعت میں سے جو ایسا جرم کرے ، اسے علاوہ حکومت کی سزا کے ہم اپنی طرف سے سزا دیں گے جو حکومت کی سزا سے بھی سخت ہوگی لیکن اگر گورنمنٹ اس کے لئے تیار نہیں تو وہ سب کے لئے یکساں قانون بنائے۔ہمیں شکوہ ہے تو یہ کہ قانون کے دو معنی کئے جاتے ہیں۔ایک وہ معنی جو تھوڑوں کے لئے ہیں اور ایک وہ معنی جو بہتوں کے لئے ہیں۔اگر سب کے لئے ایک قانون کر دیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو۔چاہے دونوں کو اجازت دے دی جائے کہ وہ گزشتہ لوگوں کے حوالے نقل کرتے چلے جائیں اور چاہے دونوں کو منع کر دیا جائے۔قاضی صاحب کی اگر ایک کتاب ضبط کی جاتی ہے تو پھر وہ سارے اشتہارات ، ساری کتب اور سارے رسائل ضبط ہونے چاہئیں جن میں یہ درج