خطبات محمود (جلد 16) — Page 509
خطبات محمود ۵۰۹ سال ۱۹۳۵ء کے پاس جاتا ہے تو شیطان اس کی شکل بنا کر اس کی بیوی سے جماع کرنے لگ جاتا ہے اور اس طرح جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ شیطان کی اولاد ہوتی ہے ، تو پھر حکومت کے پاس کوئی وجہ نہیں رہتی کہ قاضی صاحب کی کتاب کو ضبط کرے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ فقرہ جو بالعموم گالیاں دینے والے پیش کیا کرتے ہیں، اشتعال پیدا کرنے والا ہے تو یہ فقرہ جو سارے سنیوں بلکہ سب غیر مذاہب والوں کے متعلق استعمال کیا گیا ہے کیا اشتعال پیدا نہیں کرتا ؟ پھر گورنمنٹ کیوں فرق کرتی ہے۔ایک فریق کی کتاب کو ضبط کرتی اور دوسرے فریق کی کتاب کو ضبط نہیں کرتی گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ نہ اس میں فرق کرتی اور نہ اس میں مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔قاضی صاحب کی جو کتاب حکومت نے ضبط کی ہے وہ اتفاقاً ضبط ہونے سے چند دن پہلے میں نے منگوا کر دیکھی تھی کیونکہ اس کے متعلق اطلاع پہنچی تھی کہ ایک علاقہ میں وہ بہت مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔اس میں انہوں نے اپنی ذاتی رائے کوئی نہیں لکھی صرف شیعوں کی کتابوں کے حوالجات درج کر دیئے ہیں لیکن حکومت کے نزدیک محض حوالے درج کرنا بھی قابلِ اعتراض ہو گیا اور اس نے اسے ضبط کر لیا حالانکہ ہم دونوں صورتوں کو منظور کر لینے کے لئے تیار ہیں۔ہم اسے بھی منظور کر لینے کے لئے تیار ہیں کہ ایسی تحریرات جن میں پہلوں کے حوالجات درج کئے گئے ہوں اور کسی قوم کے لئے دل آزار ہوں اگر انہیں بعد میں کوئی دل آزاری کے طور پر شائع کرے تو انہیں ضبط کر لیا جائے۔اس صورت میں بے شک قاضی صاحب کی تحریر ضبط کرو مگر ان لوگوں کی تحریر میں بھی ضبط کی جائیں جن میں بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ دہرایا جاتا اور لوگوں کو اشتعال دلایا جاتا ہے پھر ہم اس صورت کو بھی منظور کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر حوالہ درست ہو تو کتاب ضبط نہ کی جائے اور نہ مصنف کو سزا دی جائے۔اس صورت میں ہمارا مطالبہ ہو گا کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ مخالف نقل کریں تو ہمیں بھی اجازت ہو کہ ہم دوسروں کی کتابوں سے حوالے پیش کریں اور اس صورت میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہونی چاہئے۔یہ دونوں باتیں ایسی ہیں کہ کسی منصف مزاج کے سامنے پیش کی جائیں تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ ان میں بے انصافی پائی جاتی ہے۔ہم دونوں صورتوں کو پیش کرتے ہوئے گورنمنٹ پر یہ چھوڑ نا چاہتے ہیں کہ وہ جو چاہے کرے۔چاہے تو وہ دونوں کی کتابوں کو ضبط کر لے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور چاہے تو دونوں کو کھلا چھوڑ دے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا مگر ایک قوم