خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 511

خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۳۵ء ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے نہ ماننے والوں کو حرامزادہ کہا اور اگر قاضی صاحب کی کتاب کو ضبط کر کے گورنمنٹ نے غلطی کی ہے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اور ضبطی کے حکم کو واپس لے۔غرض ایک تو یہ کام نیشنل لیگ کے سامنے ہے کہ وہ سلسلہ کی ہتک کا ازالہ کرائے۔اور جائز ذرائع سے کام لیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اسی طرح احترام حکومت اور رعایا سے کرائے جس طرح وہ باقی اقوام کے بزرگوں کا احترام کراتی ہے۔وہ قانون جو سکھوں کے بزرگوں کے متعلق ہے ، وہ قانون جو ہندوؤں کے بزرگوں کے متعلق ہے ، وہ قانون جو عیسائیوں کے بزرگوں کے متعلق ہے ، ہم اسی قانون کو اپنے لئے چاہتے ہیں اور ویسا ہی احترام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کرانا چاہتے ہیں۔ہم ایک رتی بھر بھی اس سے زیادہ حق نہیں مانگتے جتنا حق اس نے سکھوں ، ہندوؤں اور عیسائیوں کے بزرگوں کو دے رکھا ہے مگر ہم ایک رتی بھر اس سے کم بھی منظور نہیں کر سکتے اور اگر اس مقصد کیلئے ہزار نہیں ہیں ہزار احمدیوں کو اپنی جانیں دینی پڑیں تو ہر احمدی کو اس کیلئے تیار رہنا چاہئے اور اگر کوئی شخص اس ہتک کو برداشت کر لے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اس سے کم درجہ پر راضی ہو جائے گا جو درجہ قانون نے دوسرے بزرگوں کو دیا ہے ، خواہ اس کے لئے سو سال ہی کیوں کوشش نہ کرنی پڑے تو وہ انتہاء درجہ کا بے غیرت انسان ہو گا اور اس کی قبر پر احمدیت کی وجہ سے برکتیں نازل نہیں ہوں گی بلکہ ابد تک بجائے رحمت کے اس کی قبر پرلعنتیں نازل ہونگی۔پس یہ ایک اہم سوال ہے جو اس وقت پیدا ہے۔ہم نے دونوں باتیں گورنمنٹ کے سامنے گھلے طور پر رکھ دی ہیں۔یا تو وہ ساری جماعتوں کو روک دے اور ہر ایک سے کہہ دے کہ صحیح حوالے بھی جو اشتعال پیدا کرتے ہوں، استعمال کرنے درست نہ ہونگے اور جو اس حکم کی خلاف ورزی کرے، اسے سزا دے اور یا پھر سب کو اجازت دے کہ وہ دوسروں کی کتب سے جو صحیح حوالے بھی پیش کرنا چاہیں پیش کریں۔انہیں کوئی سزا نہ دی جائے اگر حکومت ان دونوں طریق میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرے تو پھر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔گو میں امید رکھتا ہوں کہ باوجود اس اجازت کے کہ ہر فریق دوسرے فریق کے متعلق جو جی چاہے لکھ سکتا ہے پھر بھی دوسروں کی نسبت ہماری جماعت اپنی تحریروں اور تقریروں میں بہت زیادہ احتیاط برتے گی مگر اس قربانی کے باوجود ہمیں حکومت پر کوئی