خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 504

خطبات محمود ۵۰۴ سال ۱۹۳۵ء پر ختم ہو جاتا ہے اور باقیوں کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا۔ورنہ اگر ہمارے پاس طاقت ہو تو ہم کسی کے ساتھ فرق نہ کریں اور ایک ہندو یتیم ، ایک سکھ یتیم اور ایک مسلمان یتیم میں کوئی امتیاز نہ کریں تو تمدنی اور سیاسی معاملات ایسے ہیں کہ مذہب کے اختلاف کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔پس جن جن لیگوں کو یہ شبہ ہو کہ یہ لیگ صرف جماعت کے لئے ہے انہیں یہ شبہ اپنے دل سے نکال دینا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ لیگ کو نہ صرف اپنا دائرہ عمل وسیع کرنے کی ضرورت ہے بلکہ وسیع کرنا اس کے لئے مفید اور ضروری ہے۔اس کے بعد وہ تین باتیں بتا تا ہوں جو میرے نزدیک نیشنل لیگ کو اپنے پروگرام میں شامل کرنی چاہئیں۔سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لئے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور سلسلہ کی ہتک ہے۔متواتر سلسلہ احمدیہ کی ہتک کی جارہی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حکام کو اس کے دور کرنے کی طرف وہ تو جہ نہیں جو حکومت کے لحاظ سے اس پر عائد ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت پنجاب نے اب تک ۹ کے قریب یا ممکن ہے ایک دو زیادہ پمفلٹ ضبط کئے ہیں جن میں سلسلہ احمدیہ پر حملے کئے گئے تھے مگر ۹ ، دس یا گیارہ پمفلٹوں کو ضبط کر لینا ہر گز یہ بات ثابت نہیں کرتا کہ گورنمنٹ نے اپنا فرض ادا کر دیا کیونکہ ضبط ہونے والے پمفلٹ تو ۹ دس ہیں اور وہ ٹریکٹ رسالہ جات اور اشتہارات جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمیشہ گندی گالیاں دی جاتی ہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور گورنمنٹ ان کے متعلق کوئی نوٹس نہیں لیتی۔اگر سو قاتلوں میں سے نو یا دس قاتلوں کو گورنمنٹ سزا دے دیتی ہے تو ہرگز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ گورنمنٹ نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیا کیونکہ اگر اسے سو قاتلوں کا علم ہے تو جب تک وہ ہر ایک قاتل کو سزا نہیں دے لیتی وہ اپنے فرائض کو ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی۔اسی طرح گورنمنٹ کا ہمارے خلاف سینکڑوں رسالوں ، اشتہاروں اور کتابوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرنا اور نو دس سپمفلٹوں کو ضبط کرنا بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ یہ ۹ ضبطیاں بھی محض دکھانے کے لئے ہیں کہ ہم نے احمدیوں کی طرف توجہ کی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ نو دس پمفلٹوں کو تو ضبط کر لیا جائے مگر باقی اخبارات متواتر گالیوں سے پُر ہوں ، اشتہارات گالیوں سے پُر ہوں ،ٹریکٹ اور رسالے گالیوں سے پر ہوں نظمیں ہماے خلاف پڑھی جاتی ہوں مگر گورنمنٹ ان کی طرف کوئی توجہ نہ