خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 503

خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۳۵ء نہیں آتا اور یا اتنے خوشامدی ہیں کہ سوائے خوشامد کے وہ کوئی کام ہی نہیں جانتے۔درمیانی طبقہ جو ایک طرف شرافت اور پیار سے ملک کی خدمت کرنا چاہے اور دوسری طرف حکومت پر خواہ مخواہ حملہ نہ کرے ، بہت ہی کمزور اور دبا ہوا ہے۔اس دوست نے مجھے اطلاع دی ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو دوسری اقوام کے لوگ بھی شامل کر کے بہت بڑے کام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور اس غرض کے لئے انہوں نے مجھ سے اجازت منگوائی ہے مگر اب چونکہ مرکزی لیگ کو اختیارات دیئے جاچکے ہیں اس لئے اصولاً وہ جو کام بھی کرنا چاہیں اس کے متعلق انہیں مرکزی نیشنل لیگ سے خط و کتابت کرنی چاہئے لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ میرے گزشتہ خطبات کو پڑھتے تو انہیں معلوم ہو جا تا کہ نیشنل لیگ کی بنیا د رکھتے ہوئے میں نے تجویز کی تھی کہ اس لیگ کو دنیا کی اور اقوام اور انجمنوں سے مل کر کام کرنا چاہئے بلکہ میں نے تو تحریک کی تھی کہ ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان حدود کے اندر رہتے ہوئے جن سے باہر کسی مؤمن کا قدم نہیں نکل سکتا ، ہر قسم کے حقوق حاصل کرنے کے لئے جد و جہد کرنی چاہیئے۔پس اس بات کا اعلان میں پہلے بھی کر چکا ہوں اور اس لئے کہ تا کسی کے دل میں شبہ نہ رہے اب پھر اس اعلان کو ہرا دیتا ہوں کہ نیشنل لیگ کی بنیا د رکھتے ہی میں نے تجویز کی تھی کہ یہ لیگ دوسری انجمنوں سے مل کر بھی کام کر سکتی ہے بلکہ اسے اپنے ممبروں میں دوسرے مسلمانوں یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہئے۔کئی سیاسی اور تمدنی کام ایسے ہو سکتے ہیں جن کا کسی خاص مذہب کے ساتھ تعلق نہیں بلکہ ہر مذہب کے لوگ ان کا موں میں حصہ لے سکتے ہیں۔مثلاً غریبوں کی ترقی ، زمینداروں اور پیشہ وروں کی ترقی ،مسکینوں ، قتیموں اور غریبوں کی ترقی کے لئے کوشش کرنا کس مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ؟ ایک سکھ، ایک ہندو، ایک عیسائی اور ایک یہودی غریب، مزدور، پیشہ ور یا یتیم ومسکین کے ساتھ ہماری ویسی ہی ہمدردی ہونی چاہئے جیسے ایک احمدی کے ساتھ۔ہم اس لئے ایک یتیم کی مدد نہیں کرتے کہ وہ احمدی ہے بلکہ اس لئے مدد کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس کے لئے جو سہارا بنایا تھا وہ اُٹھ گیا اور اب باقی لوگوں کا فرض ہے کہ اسکی مدد کریں بیشک الاقْرَبُ فَالًا قَرَبُ کا قانون دنیا میں جاری ہے اور جو یتیم ومسکین ہماری نگاہ کے سامنے ہو اس کی ہم پہلے مدد کرتے ہیں اور دوسرے کی بعد میں لیکن ہم دوسرے کی مدد کرنے سے بعض دفعہ اس لئے رہ جاتے ہیں کہ ہمارے پاس جو طاقت یا روپیہ ہوتا ہے وہ قریب کے یتامی وغرباء