خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 505

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کرے۔اسی ضلع کا ایک آدمی ہے جو اپنی شوخی و شرارت میں اس حد تک بڑھا ہو ا ہے کہ اس نے اپنے باپ کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا مجھے کیا پتہ میں تیرے نطفہ سے ہوں۔اسکی ایک نظم جو ہمارے خلاف تھی ، اسکو گورنمنٹ نے ضبط کر لیا مگر وہ برابر اس ضبط شدہ نظم کو جلسوں میں پڑھتا ہے مگر حکومت اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی۔اگر اسکی نظم کی ضبطی قیام امن کے لئے تھی تو کیا وجہ ہے کہ جب جلسوں میں وہ اس نظم کو پڑھتا اور طبائع میں اشتعال پیدا کرتا ہے تو گورنمنٹ اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھاتی۔گورنمنٹ کہتی ہے کہ ہم نے جماعت احمدیہ کے خلاف 9 پمفلٹوں کو ضبط کیا مگر ہم ان ۹ کے مقابلہ میں چارسو بلکہ اس سے بھی زیادہ تحریرات اخبارات ، رسالہ جات اور اشتہارات کی دکھا سکتے ہیں جن میں ایسی گندی گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو دی گئی ہیں اور ایسے دلہ زار کلمات استعمال کئے گئے ہیں کہ یقینی طور پر اگر ان گالیوں اور دلآ زار کلمات کو ایک غیر متعصب انسان کے سامنے رکھا جائے تو وہ اقرار کرے کہ ان تحریرات میں گالیاں دی گئی ہیں دلائل سے کام نہیں لیا گیا مگر باوجود اس کے حکومت نے ان کی طرف توجہ نہیں کی۔بےشک حکومت نے ایک مقدمہ چلایا ہے مگر ہر انصاف پسند انسان اس مقدمہ کی کارروائی کو دیکھ کر کہے گا کہ وہ مقدمہ اس شخص پر نہیں چلایا گیا بلکہ جماعت احمدیہ پر چلایا گیا تھا کسی انصاف پسند آدمی کے سامنے میری وہ گواہی رکھ دی جائے جو میں نے عدالت میں دی تھی اور اسی طرح دوسرے کارکنان سلسلہ کی اور دیکھا جائے کہ جو جرح کی گئی ہے اور جس طرح ہمارے دفتری کا غذات منگوا کر پیش کئے گئے ہیں انہیں مد نظر رکھ کر کون ہے جو کہہ سکے کہ مقدمہ سید عطا اللہ شاہ بخاری کے خلاف تھا۔پھر اس سارے مقدمہ کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہ کہ اس شخص کو صرف پندرہ منٹ قید کی سزا دی گئی اور وہ فخر کرتا ہے اور علی الاعلان کہتا ہے کہ مجھے عدالت کے برخواست ہونے تک ۱۵ منٹ کی جو سزا دی گئی اس میں خود عدالت کو بھی سزا ملی اور وکلاء کو بھی سزا ملی کیونکہ وہ لوگ بھی اُس وقت تک بیٹھے جب تک میں بیٹھا رہا اور میں نے خوب ہر ایک کو چ پر بیٹھ بیٹھ کر بجلی کے پنکھوں کے لطف اُٹھائے۔اس کے مقابلہ میں اسی ضلع میں ایک احمدی نے ایک کتاب لکھی اور اس میں صرف حوالجات جمع کئے اس پر بھی حکومت نے مقدمہ چلایا اور اسے قید کی سزا دی گئی ، پھر اپیل پر سیشن جج مسٹر کھوسلہ نے سزا کو چار سو ر روپیہ جرمانہ میں تبدیل کر دیا۔ان مثالوں کو سامنے رکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے ایک ایک آدمی پر حکومت نے مقدمہ چلا کر وزن برابر کر دیا